29/July/2025

باجوڑ آپریشن پر سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل: ریاستی جبر ناقابلِ برداشت، طاقت کا راستہ ترک کرنے کا مطالبہ

👁️ 440 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
باجوڑ آپریشن پر سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل: ریاستی جبر ناقابلِ برداشت، طاقت کا راستہ ترک کرنے کا مطالبہ

باجوڑ آپریشن پر سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل: ریاستی جبر ناقابلِ برداشت، طاقت کا راستہ ترک کرنے کا مطالبہ

پشاور(ڈیلی اردو)خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جاری فوجی آپریشن پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے شدید تحفظات اور سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پختون قوم پچھلے پانچ عشروں سے دہشت گردی اور ریاستی جبر کا شکار ہے، اور حالیہ باجوڑ آپریشن میں معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کسی بھی صوبے میں فوجی آپریشن صرف صوبائی حکومت کی درخواست پر ممکن ہے، اگر صوبائی حکومت اس آپریشن میں شریک نہیں تو باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر تاحال اپنے عہدے پر کیوں موجود ہیں؟ یہ پی ٹی آئی حکومت کی ایما پر دوسرا بڑا حملہ ہے جو پشتون قوم پر کیا جا رہا ہے۔

ادھر عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مرضی کے خلاف "آپریشن سربکف" کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں 16 یونین کونسلوں میں کرفیو لگا کر لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ تمام کارروائیاں اسٹیبلشمنٹ اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کی ان پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جنہوں نے پشتون خطے کو مسلسل جنگ کا میدان بنا رکھا ہے۔

میاں افتخار حسین نے خبردار کیا کہ اگر فورسز نے اچھے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف بھی کارروائی نہ کی اور دوہری پالیسی ترک نہ کی گئی، تو عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سوال بغاوت کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ عوام کو بغاوت پر مجبور کس نے کیا؟

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے بھی باجوڑ آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند دن پہلے صوبائی حکومت نے اس کی مخالفت کی اور اب اچانک اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوئے، نہ ہی آئندہ ہوں گے۔ جے یو آئی نے واضح کیا کہ وہ انسانی حقوق کی پامالی اور عوام پر ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے گی۔

تینوں جماعتوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ عوام کی مرضی کے خلاف جاری ریاستی آپریشنز کو فی الفور بند کیا جائے، انسانی جانوں کو تحفظ دیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کا محاسبہ کیا جائے اور دوہری پالیسی کو ختم کیا جائے، تاکہ پختون عوام کو امن، ترقی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جا سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C