02/December/2025

بلوچستان: چاغی، ایف سی ہیڈکوارٹر نوکنڈی پر خاتون کا خودکش حملہ، 8 اہلکار ہلاک

👁️ 524 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: چاغی، ایف سی ہیڈکوارٹر نوکنڈی پر خاتون کا خودکش حملہ، 8 اہلکار ہلاک

بلوچستان: چاغی، ایف سی ہیڈکوارٹر نوکنڈی پر خاتون کا خودکش حملہ، 8 اہلکار ہلاک

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے نوکنڈی علاقے میں اتوار کی شب فرنٹیئر کور (ایف سی) کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر ایک خودکش حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ حملے کی نوعیت اور شدت کے سبب نوکنڈی کے رہائشیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

 

نوکنڈی کے رہائشیوں نے بتایا کہ رات کو سوا آٹھ بجے کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں صبح ساڑھے دس بجے تک وقفے وقفے سے سنائی دیتی رہیں۔

 

سرکاری حکام کے مطابق حملے میں ایک خودکش حملہ آور نے ہیڈکوارٹر کے مین گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی، جس کے بعد دیگر تین حملہ آور ایف سی کیمپ میں داخل ہوئے۔ ایف سی کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کر کے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کیا۔ 

 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آٹھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکار مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے، تاہم حکام نے ابھی تک سرکاری تصدیق نہیں کی، اور نہ ہی پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کوئی بیان جاری ہوا ہے۔

 

ڈیلی اردو کو سیکورٹی ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں حوالدار قطب، لانس نائیک عامر، سپاہی شیراز، سپاہی یاسین، حوالدار عارف، حوالدار جہانگیر،سپاہی رفعت اور سپاہی علی احمد شامل ہیں۔

 

کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ 

 

تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں ایک خاتون خودکش حملہ آور بھی شامل تھی، جس کا نام زرینہ بلوچ عرف تراناگ ماؤ بتایا گیا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران خاتون کی جانب سے پانچواں خودکش حملہ ہوگا۔

 

بلوچستان میں کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے خواتین کی طرف سے کیے جانے والے خودکش حملوں کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ 

 

حکام کے مطابق بلوچستان میں سب سے پہلا معروف خواتین کا خودکش حملہ شاری بلوچ نے کیا تھا، جس میں انہوں نے اپریل 2022 میں کراچی یونیورسٹی کے کیمپس میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا۔

 

جون 2023 کے دوران سمیعہ بلوچ نے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ کیا۔ 

 

سمیعہ بلوچ سے قبل ان کے منگیتر ریحان بلوچ نے اگست 2018 میں ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں چینی کارکنوں کو نشانہ بنایا تھا۔

 

اگست 2024 میں کراچی کے قریب بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ایک اور خاتون ماہل بلوچ نے سکیورٹی فورسز کے مرکزی کیمپ کے باہر بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ خودکش حملہ کیا۔

 

رواں سال مارچ میں مہکن بلوچ نامی خاتون نے قلات شہر کے قریب کوئٹہ-کراچی ہائی وے پر ونگ کمانڈر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

 

اتوار کی شب نوکنڈی، چاغی میں ہونے والے خودکش حملے سے قبل، جن چار خواتین نے خودکش حملے کیے ان کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے رہا۔ نوکنڈی میں حملہ بھی اس سلسلے کا تازہ واقعہ ہے، جس میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے خواتین کے ذریعے حملے کو اپنی کارروائی کے طور پر انجام دینے کا دعویٰ کیا ہے۔۔

 

نوکنڈی اور ضلع چاغی کی اہمیت

 

نوکنڈی، ضلع چاغی کی تحصیل اور ٹاؤن کا ہیڈکوارٹر ہے، جو کوئٹہ سے مغرب میں تقریباً 500 کلومیٹر اور دالبندین سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نوکنڈی میں ایف سی ہیڈکوارٹر کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر موجود ہے۔

 

چاغی ضلع کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں۔ شمال میں افغانستان جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے۔ ضلع معدنیات سے مالا مال ہے، جس میں تانبے اور سونے کے اہم منصوبے جیسے ریکوڈک اور سائیندک پراجیکٹ شامل ہیں۔ ریکوڈک پراجیکٹ نوکنڈی سے شمال میں، افغانستان کی جانب 110 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔

 

نوکنڈی اور چاغی کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کی وجہ سے یہاں ہونے والے حملے سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور علاقے میں مقامی اور سکیورٹی فورسز کی موجودگی کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C