03/October/2025

بلوچستان کے ضلع شیرانی میں آپریشن، بی ایل اے کے 7 دہشتگرد ہلاک

👁️ 388 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان کے ضلع شیرانی میں آپریشن، بی ایل اے کے 7 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان کے ضلع شیرانی میں آپریشن، بی ایل اے کے 7 دہشتگرد ہلاک

شیرانی (ڈیلی اردو) سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع شیرانی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے 7 دہشتگرد ہلاک کر دیے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یکم اکتوبر کو دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے دہشتگردوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ علاقے میں مزید دہشتگردوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے شیرانی میں دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان کے شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو شکست فاش دی گئی ہے۔ دہشتگردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے خواہشمند عناصر ہرگز کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔"

واضح رہے کہ دو روز قبل بھی آئی ایس پی آر نے کوئٹہ اور ضلع کیچ میں کارروائیوں کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے 13 دہشتگردوں کی ہلاکت اور خضدار سے 4 دہشتگردوں کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔

امریکا کا نیا غزہ امن منصوبہ مسلم ممالک کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، پاکستان

پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ پٹی میں جنگ بندی اور قیام امن کے لیے اسی ہفتے پیش کردہ امن منصوبہ سرکردہ مسلم ممالک کے گروپ کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اسحاق دار کے بقول صدر ٹرمپ نے غزہ میں قیام امن کے لیے جو نیا منصوبہ پیش کیا ہے، اور جس کی اسرائیل نے بھی حمایت کی ہے، وہ ان امن تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، جو امریکی صدر کو مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک کے ایک گروپ نے گزشتہ ماہ ایک مسودے کی شکل میں پیش کی تھیں۔

بائیس ستمبر کو صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات میں مسلم ممالک کے گروپ نے جو تجاویز پیش کی تھیں، ان میں غزہ پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی بات کی گئی تھی، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو پلان پیش کیا، اس میں حماس کے عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری کے طور پر صرف جزوی اسرائیلی انخلا کی بات کی گئی ہے۔

مسودے میں ’تبدیلیاں‘ کی گئی ہیں
پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ملکی پارلیمان کے ارکان کے سامنے دیے گئے ایک بیان میں واضح کیا، ’’میں یہ وضاحت کر چکا ہوں کہ وہ 20 نکات جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے منصوبے میں پیش کیے ہیں، وہ وہی نہیں ہیں، جو ہمارے تھے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ مسودہ جو ہمارے پاس تھا، اور جو ہم نے امریکی صدر کو پیش کیا تھا، اس میں کچھ تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔‘‘

امریکی صدر نے اپنے اس امن منصوبے کا اعلان آٹھ مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقات کے ایک ہفتے بعد کیا تھا۔ یہ ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن،ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان تھے۔

امریکی صدر کے پیش کردہ نئے غزہ امن منصوبے میں بہت سی عملی تفصیلات کا طے کیا جانا اطراف کے مذاکراتی نمائندوں اور ثالثوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس اسے قبول کرتی ہے یا نہیں۔ حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے آج جمعے کے روز کہا کہ اس امن پلان کا حماس کی طرف سے جائزہ اور مشاورت جاری ہیں، جن میں ابھی مزید کچھ وقت لگے گا۔ اس کے بعد ہی حماس کا حتمی ردعمل سامنے آئے گا۔

عسکریت پسندوں کو بنوں سے نکلنے کے لیے 10 اکتوبر کا الٹی میٹم: ’مقامی افراد اپنے تحفظ کے لیے اب خود باہر نکل آئے ہیں‘

بی بی سی

خیبر پختونخوا میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد دیہات اور مضافاتی علاقوں میں مقامی لوگ اب علاقوں میں اپنے اپنے طور پر حفاظتی انتظامات کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

جنوبی ضلع بنوں کے قریب ھاتی خیل قبیلے نے ایک جرگے کے بعد اس علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کو 10 اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں۔

اسی طرح گزشتہ روز ضلع لکی مروت میں بھی سکیورٹی فورسز، پولیس اور مقامی سول افسران کے ایک اجلاس میں علاقے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کے لیے مشاورت کی گئی ہے۔

لکی مروت میں بیگو خیل اور دیگر قریبی دیہات کی سطح پر پہلے سے ہی امن کمیٹیاں قائم ہیں جو عسکریت پسندوں کی جانب سے کسی بھی کارروائی یا مقابلے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے یہ عام لوگوں کا کام نہیں ہے بلکہ اس سے مقامی لوگ اور عسکریت پسند آمنے سامنے آ جائیں گے جس سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

ضلع بنوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگرچہ کچھ علاقے ہیں جہاں عسکریت پسند موجود ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور جہاں جہاں حالات کشیدہ ہیں وہاں مقامی کمیونٹی کو ساتھ ملا کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

دو روز پہلے ھاتی خیل قوم نے عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑا جرگہ منعقد کیا تھا، جس میں مسلح شدت پسندوں کو علاقے سے نکلنے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا۔

ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے اس فیصلے کو سراہا تھا۔ سجاد خان نے بتایا کہ مقامی لوگوں کی مدد سے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مختلف مقامات پر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں ضلع بنوں کے علاوہ لکی مروت اور نورنگ میں بھی روایتی چغہ پارٹی کی طرح مقامی لوگ حرکت میں آئے ہیں جس پر مسلح افراد فرار ہو گئے تھے۔ چغہ پشتو زبان میں ’چیخ‘ کو کہا جاتا ہے اور کسی بھی واقعہ پر ایک ’چیخ‘ پر سب لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

بنوں سے سینئر مقامی صحافی عمر دراز وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ بنوں کے علاوہ شمالی وزیرستان لکی مروت اور قریبی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اُن کے بقول بنوں اور شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقوں جانی خیل میں اس سال اب تک ٹارگٹ کلنگ کے 10 واقعات پیش آ چکے ہیں شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے 19 واقعات پیش آئے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح دوسرے علاقوں میں بھی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے کوئی محفوظ نہیں ہے ان میں نوجوانوں، تاجروں سرکاری ملازمین اور دیگر کو اغوا کیا گیا ہے جنھیں مقامی لوگوں کی مدد سے پھر بازیاب کرایا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے پاس صرف دو راستے ہیں ایک یہ کہ وہ مجبور ہو کراپنی حفاظت کے لیے خود نکل آئے ہیں کیونکہ جس طرح تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ان کے لیے بھی خطرات ہیں اس لیے ایک طرح سے وہ خود کھڑے ہو گئے ہیں۔

دوسرا راستہ ان کے لیے یہ ہے کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دے کر اپنے علاقے سے عسکریت پسندوں کو نکالیں اور اس وقت ان علاقوں میں یہ دونوں طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔

اس سے پہلے باجوڑ کے ماموند کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائی سے سے پہلے مقامی قبائل نے جرگے منعقد کیے اور عسکریت پسندوں سے مذاکرات کیے تھے اور ناکامی کے بعد سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں کارروائی شروع کی تھی۔

اسی طرح اس کے بعد ضلع مہمند میں بھی سکیورٹی فورسز پولیس اور مقامی عمائدین کے جرگے ہوئے ہیں جن میں عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر بات کی گئی تھی۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے تجربے پہلے بھی کیے گئے تھے لیکن اس نتائج کوئی اچھے نہیں نکلے تھے۔ لوگوں کو تحفظ دینا ریاست کی ذمے داری ہے اور ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے کیونکہ اس طرح مقامی کمیونٹی کو پہلے بھی تیار کیا گیا تھا ان میں دکاندار اور عام لوگ تھے ان کا کام مسلح ہونا نہیں تھا۔ لیکن انھیں مقابلے کے لیے سامنے لایا گیا تھا اور پھر ان کا کیا انجام ہوا تھا سب کو معلوم ہے۔

مشتاق یوسفزئی کے مطابق پولیس اور سکیورٹی فورسز کے پاس وسائل ہیں تمام اسلحہ اور سہولیات ہیں ان کی انٹیلیجنس ہے ان کے پاس ایئر فورس ہے سب کچھ ہے تو ایسے میں یہ دیہات کے لوگ کیا کر لیں گے۔

لندن سے واپس آ رہا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ کا پیغام ملا کہ ’برادر ہمیں مشترکہ بیان جاری کرنا پڑے گا‘: اسحاق ڈار

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے دیا گیا 20 نکاتی ڈرافٹ وہ نہیں جس کی ہم (آٹھ اسلامی ممالک) نے توثیق کی تھی۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں اس معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کے بعد اُنھیں سعودی وزیر خارجہ کا پیغام موصول ہوا تھا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ نے اُنھیں بتایا کہ ’ٹرمپ کے پیش کیے گئے ڈرافٹ میں بہت سی چیزیں مان لی گئی ہیں، لیکن ہمیں کچھ میں اُن سے بات کرنا پڑے گی۔‘

اُن کے بقول سعودی وزیر خارجہ کا مؤقف تھا کہ اُس وقت ہمارے پاس دو راستے تھے یا تو ہم ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی ڈرافٹ پر اعتراض کرتے اور اسرائیل کو غزہ میں مزید خون بہانے کا موقع ملتا۔ سعودی وزیر خارجہ نے تجویز دی کہ مسلم اور عرب ممالک کو اس معاملے پر ایک مشترکہ بیان جاری کرنا چاہیے جو ریکارڈ پر لانے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کو بھی بھجوایا جائے۔

اسحاق ڈار نے ایوان میں وہ مشترکہ بیان بھی دوبارہ پڑھ کر سُنایا جس میں اُن کے بقول تنازع کے دو ریاستی حل، مقبوضہ مغربی کنارے سے اسرائیل کی مکمل دستبرداری جیسے نکات شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارہ، غزہ کا حصہ ہو گا۔

اُن کے بقول مشترکہ بیان میں غزہ میں فوری جنگ بندی، تعمیر نو اور اسرائیل فوج کے غزہ سے مکمل انخلا جیسے نکات شامل ہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم تن تنہا اس جنگ کو بند کروانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس معاملے پر اسلامی ممالک کی تنظیم، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل تک ناکام ہو چکی تھی۔ ’اگر ہم نے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔‘

پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف کو الہام نہیں ہونا تھا کہ صدر ٹرمپ کے 20 نکات وہ نہیں ہیں جس کی ہم نے توثیق کی تھی۔ جب ہم نے ڈرافٹ دیکھا تو فوری طور پر اس معاملے میں اپنا بیان جاری کیا۔‘

اسحاق ڈار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں غزہ سے متعلق صدر ٹرمپ کے ڈرافٹ اور پاکستانی حکومت کی جانب سے اس کی توثیق پر تنقید کر رہی تھیں۔

بعض حلقوں کا کہ یہ بھی دعوی تھا کہ تنازع سے متعلق پاکستان نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔

پاکستان کی کسی مہم جوئی پر اُس کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل دیں گے: انڈین وزیر دفاع

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے سرکریک سیکٹر میں کوئی مہم جوئی کی تو انڈیا کا شدید ردعمل پاکستان کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو بدل دے گا۔

یہ بات انھوں نے جمعرات کو ریاست گجرات میں بھج فوجی اڈے کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ اس تقریب میں انڈین فوج کے سربراہ سمیت سینیئر عسکری قیادت موجود تھی۔

راج ناتھ سنگھ نے متعلقہ تفصیلات فراہم کیے بغیر دعویٰ کیا کہ پاکستان سرکریک سیکٹر میں اپنا فوجی عمل دخل بڑھا رہا ہے اور انفرا سٹرکچر بھی تعمیر کر رہا ہے جو اُن کے بقول ’پاکستان کی بدنیتی‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ یا فوج کی جانب سے انڈین وزیر دفاع کے بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

راج ناتھ سنگھ کا مزید دعویٰ تھا کہ انڈیا کی جانب سے مذاکرات کی متعدد کوششوں کے باوجود پاکستان نے گذشتہ 78 برسوں سے سرکریک کے علاقے کو متنازع بنایا ہوا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنہ 1965 کی جنگ میں انڈین فوج لاہور تک پہنچ گئی تھی اور ’2025 میں پاکستان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سرکریک سے ہوتی ہوئی ایک سڑک کراچی تک جاتی ہے۔‘

اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے سٹریٹجک اہمیت کے حامل سرکریک سیکٹر میں دو اہم تنصیبات کا ورچوئل افتتاح بھی کیا، جن میں ٹئی ڈل انڈیپینڈنٹ برتھنگ فسیلٹی اور مشترکہ کنٹرول سینٹر شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کی مدد سے ساحل پر سکیورٹی آپریشنز بہتر ہوں گے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف فوری ردعمل دینے کی انڈین صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔

انھوں نے تقریب کے دوران ’آپریشن سندور‘ میں انڈین فوج کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور دعویٰ کیا کہ دورانِ جنگ انڈین فوج نے دفاعی نیٹ ورک میں پاکستانی دراندازی کی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ انڈیا کو بیرونی جارحیت، دہشت گرد تنظیموں اور سائبر وار فیئر جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے مابین سرکریک کا تنازع کیا ہے؟

پاکستان اور انڈیا کے مابین سرکریک کے علاقے میں سمندری حدود پر تنازع ہے اور کئی بار دونوں ممالک نے اس معاملے پر مذاکرات بھی کیے ہیں جو کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

جنوری 2006 میں دونوں ممالک کے ماہرین نے سرکریک کے علاقے کا مشترکہ سروے کروایا تھا اور متفقہ نقشے کے ساتھ سمندری حدود کے تعین کے بارے میں اپنے اپنے موقف پر مبنی سفارشات کا تبادلہ کیا تھا۔

سنہ 2007 میں ہونے والی ملاقات میں بعض ایسے نئے نکات اٹھائے گئے تھے جس کے بعد دوبارہ سروے کرنے فیصلہ کیا گیا تھا۔

سرکریک کی حد بندی سے متعلق انڈیا کا موقف رہا ہے کہ باؤنڈری یعنی سرحد، کھاڑی کے وسط تک ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کھاڑی کے مشرقی کنارے پر سرحد واقع ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C