بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر مبینہ حملوں کے سبب بھارتی سرحد پر کشیدگی
👁️ 97 بار دیکھا گیا
بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر مبینہ حملوں کے سبب بھارتی سرحد پر کشیدگی
ڈھاکا (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) ہزاروں بنگلہ دیشی سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے سرحدی علاقوں میں زبردست کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحدی فورسز کی ایک مشترکہ میٹنگ بھی ہوئی ہے۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفے اور فرار ہو کر بھارت جانے کے بعد کی صورت حال میں مبینہ طور پر بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں ہندو اقلیتی برادری پر حملے بھی ہوئے ہیں، جن سے خوفزدہ ہو کر بہت سے بنگلہ دیشی سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہونے کی کوشش میں مشترکہ سرحد پر جمع ہیں۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے ’’غیر قانونی پناہ گزینوں‘‘ کو سرحد پار کرنے سے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں سرحدی فورس بی ایس ایف کو اہلکاروں کو تعینات کیا ہے اور انہیں ریڈ الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
بی ایس ایف حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایسے متعدد بنگلہ دیشیوں کو حراست میں لے لیا گیا، جو پڑوسی ملک سے فرار ہو کر بھارت میں دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔
بھارتی حکام نے ملکی میڈیا سے بات چیت میں کہا، ’’گیارہ بنگلہ دیشی شہریوں کو بھارت میں دراندازی کرتے ہوئے سرحد پر پکڑا گیا ہے۔ ان میں سے دو کو مغربی بنگال اور دو کو تری پورہ میں مشترکہ سرحد سے پکڑا گیا جبکہ سات کو میگھالیہ کی سرحد سے حراست میں لیا گیا۔ ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔‘‘
بھارتی بنگلہ دیشی سرحد پر کشیدگی
نئی دہلی میں ڈی ڈبلیو کی بنگلہ سروس کے نامہ نگار شیامنتک گھوش اس وقت بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ سرحد پر موجود ہیں، جن کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سرحد پر ہزاروں بنگلہ دیشی بھارت میں داخل ہونے کے لیے جمع ہیں، جس کی وجہ سے وہاں بحرانی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا، ’’سرحد پر بہت زیادہ کشیدگی ہے۔ ہر جانب سکیورٹی اہلکاروں کا سخت ترین پہرہ ہے۔ مغربی بنگال کے سرحدی ضلع کوچ بہار میں سرحد کے اس پار ہزار سے زیادہ لوگ بھارت میں داخلے کے لیے کھڑے ہیں۔ اس جگہ پر دونوں ملکوں کے درمیان ایک دریا ہے اور لب دریا بہت سے لوگ جمع ہیں، تاکہ سرحد عبور کر سکیں۔ تاہم بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے انہیں روک رکھا ہے۔‘‘
شیامنتک گھوش نے بتایا کہ اسی طرح سرحدی علاقوں میں مختلف مقامات پر لوگ جمع ہیں، تاہم بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ ہزاروں کلومیٹر طویل اپنی سرحد کی نگرانی کے لیے اضافی فورسز کو بھی تعینات کر دیا ہے، جس سے سرحد پر بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں بنگلہ دیش کی بارڈر فورس اور بھارتی بی ایس ایف کے حکام کے مابین ایک ملاقات بھی ہوئی ہے، تاکہ حالات کو بے قابو ہونے سے روکا جا سکے۔
اسی دوران بھارتی بی ایس ایف کے ایک افسر کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہو گئی ہے، جس میں وہ ایک بڑے ہجوم کو بھارت میں داخل نہ ہونے کی نصیحت کر رہے ہیں۔
اس ویڈیو میں وہ کہتے دکھائی دیتے ہیں، ’’ہم جانتے ہیں کہ آپ کو اس مسئلے کا سامنا ہے، ہر کوئی اس مسئلے کو سمجھتا ہے۔ آپ یہاں آئے ہیں۔ لیکن یہ قابل بحث موضوع ہے۔ اسے اس طرح حل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
’’ہم آپ کو اپنی مرضی کے مطابق اندر (بھارت میں) نہیں لے جا سکتے اور اگر آپ اس طرح شور مچائیں گے، تو آپ سمجھ نہیں پائیں گے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ ہمارے سینیئر افسران بھی یہاں موجود ہیں اور ان کی طرف سے بھی میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے اعلیٰ افسران نے آپ کے ملک کے اعلیٰ افسروں سے بات کی ہے اور وہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ آج ہی کے دن واپس چلے جائیں۔‘‘
محمد یونس کی ہندو طلبہ سے ملاقات
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس ملک کی اقلیتی ہندو برادری پر ہونے والے حالیہ مبینہ حملوں سے نمٹنے کے لیے پیر کے روز اقلیتی نوجوانوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔
عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت موجودہ بحران کو حل کرنے اور مقامی ہندو برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے پر مرکوز رہے گی۔ اطلاعات کے مطابق پانچ اگست کو شیخ حسینہ کی قیادت میں قائم ملکی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتی برادریوں کے باشندوں کو کُل 52 اضلاع میں حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کابینہ کے ارکان کی حلف برداری کے بعد عبوری حکومت نے اتوار کے روز اپنے پہلے سرکاری بیان میں کہا تھا، ’’کچھ مقامات پر مذہبی اقلیتوں پر حملوں کو شدید تشویش کے ساتھ نوٹ کیا گیا ہے۔‘‘
سن 1971 کی ’’جنگ کی یادگار مسمار‘‘
بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے رہنما ششی تھرور نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی اور لکھا کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی یاد میں بنائے گئے مجسمے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے اس ٹوٹے ہوئے مجسمے کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں سن 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کا منظر پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے لکھا، ’’مجیب نگر میں سن 1971 کے شہید میموریل کمپلیکس کے مجسموں کی اس طرح کی تصاویر دیکھ کر کافی دکھ ہوا۔ ایسے ایک مجسمے کو بھارت مخالف غنڈوں نے تباہ کر دیا۔‘‘
واضح رہے کہ مذکورہ ٹوٹے ہوئے مجسمے میں بھارت کے ایک فوجی جنرل کو دکھایا گیا تھا، جو اس پاکستانی فوجی جنرل کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، جنہوں نے شکست کے بعد بھارت کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
ششی تھرور نے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت والی نئی نگران حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
سعودی قیادت میں 14 ملکی بحری اتحاد فعال، باب المندب اور بحیرہ احمر میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کا فیصلہ
02/September/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
یمن : حوثی باغیوں پر شہری کو گرفتاری کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کا الزام
02/September/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
شام : جنگی باقیات کا خطرہ برقرار، ہر چھ گھنٹے میں ایک ہلاکت یا زخمی ہونے کا واقعہ
02/September/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
کراچی : ٹی ٹی پی کے دو مبینہ دہشتگرد گرفتار، دستی بم برآمد
02/September/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
شام : کرد خواتین جنگجوؤں کا فوج میں شمولیت کا مطالبہ مسترد، متبادل راستے کی تلاش
02/September/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر حملہ، فلپائن کے 2 ملاح ہلاک
02/September/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26266 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15514 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11794 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9094 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7380 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5060 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C