01/January/2026

جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز تعینات

👁️ 237 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز تعینات

جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز تعینات

ریاض (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) یمن کی کئی سالہ خانہ جنگی میں علاقائی طاقتوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ حریف عسکری دھڑوں کے مابین نئی پیش رفت ہوئی ہے۔ جنوب کے علیحدگی پسندوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اب حکومتی دستے تعینات کیے جائیں گے۔

 

یمن میں علیحدگی پسندوں کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کی طرف سے نئے سال 2026ء کے آغاز پر جمعرات کے روز بتایا گیا کہ اس کونسل کے مسلح دستوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اب ملک کی سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے دستے داخل ہو سکیں گے اور انہیں وہاں باقاعدہ تعینات بھی کیا جا سکے گا۔

 

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ حکومت کو سعودی عرب کی قیادت میں ایک ایسے بین الاقوامی عسکری اتحاد کی حمایت بھی حاصل ہے، جس کی طرف سے ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف کئی سالوں سے بار بار زمینی اور فضائی حملے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔

 

جنوبی عبوری کونسل میں علیحدگی پسندانہ رجحانات

 

یمنی تنازعے نے کچھ عرصہ قبل اس وقت داخلی طور پر ایک نیا رنگ اختیار کر لیا تھا، جب حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران جنوب کی عبوری کونسل میں علیحدگی پسندانہ رجحانات پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔

 

ان علیحدگی پسندوں کو متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل رہی ہے، جس پر سعودی عرب ناراض تھا کیونکہ علیحدگی پسند اپنے طور پر ماضی کی یمنی ریاست ’جنوبی یمن‘ کے احیا کے لیے کوششیں کرنے لگے تھے۔

 

اس تناظر میں سعودی عرب نے رواں ہفتے ہی جنوبی یمن کے بندرگاہی شہر المکالا میں ایسے بڑے فضائی حملے بھی کیے تھے، جن میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے بحری جہازوں کے ذریعے ایس ٹی سی کے علیحدگی پسندوں کے لیے بھیجے گئے مبینہ ہتھیار اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دیے گئے تھے۔

 

سعودی الٹی میٹم کے بعد متحدہ عرب امارات کا اعلان

 

المکلا میں فضائی حملوں کے فوری بعد سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر یمنی خانہ جنگی کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کر دیا تھا کہ یمن میں موجود باقی ماندہ تمام اماراتی دستے 24 گھنٹوں کے اندر اندر وہاں سے نکل جائیں۔

 

یہ سعودی مطالبہ علاقائی سیاست اور یمنی خانہ جنگی دونوں حوالوں سے ریاض اور ابوظہبی کے مابین اس شدید کشیدگی کا نقطہ عروج بھی بن گیا تھا، جو اس حد تک پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

 

سعودی الٹی میٹم کے چند ہی گھنٹے بعد متحدہ عرب امارات نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ اس کے یمن میں تعینات تمام باقی ماندہ فوجی دستے رضاکارانہ طور پر واپس بلا لیے جائیں گے۔

 

نئی پالیسی پیش رفت

 

یمن کی خانہ جنگی میں نئی پیش رفت اب جنوب کے علیحدگی پسندوں کا یہ اعلان ہے کہ ان کے زیر قبضہ علاقوں میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے مسلح دستے تعینات کیے جا سکیں گے۔

 

یہ پیش رفت ایس ٹی سی کے علیحدگی پسندوں کی جزوی سیاسی شکست اور عسکری پسپائی کے مترادف ہے، جس کی وجہ وہاں اثر انداز ہونے والی بیرونی قوتوں کے طور پر سعودی عرب کا متحدہ عرب امارات پر غالب آ جانا بنا ہے۔

 

ایس ٹی سی نے یکم جنوری کے روز ایک بیان میں کہا کہ ریاض حکومت کی حمایت یافتہ نیشنل شیلڈ نامی حکومتی فورسز اب کونسل کے زیر قبضہ علاقوں میں تعینات کی جائیں گی، تاہم ایس ٹی سی کے مسلح دستے بھی وہاں موجود رہیں گے۔

 

یمنی حکومتی دستوں کی یہ تعیناتی خاص طور پر قدرتی وسال سے مالا مال صوبوں حضر موت اور المھرہ میں کی جائے گی، جن پر ایک بڑی لیکن غیر متوقع پیش رفت کے دوران جنوب کے علیحدگی پسند قابض ہو گئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C