10/November/2025

حزب اللہ کیلئے ایران کی فنڈنگ روکنے کا "ابھی" درست وقت ہے، امریکی نائب وزیر

👁️ 210 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حزب اللہ کیلئے ایران کی فنڈنگ روکنے کا "ابھی" درست وقت ہے، امریکی نائب وزیر

حزب اللہ کیلئے ایران کی فنڈنگ روکنے کا "ابھی" درست وقت ہے، امریکی نائب وزیر

واشنگٹن (ڈیلی اردو/ روئٹرز) امریکہ لبنان میں پائے جانے والے موجودہ حالات کے پیش نظر اس ’’لمحے‘‘ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، جس کے مطابق لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے لیے ایرانی فنڈنگ کو منقطع کرنے کا درست وقت ’’اب ہی‘‘ ہے۔

 

امریکی محکمہ خزانہ کے واشنگٹن حکومت کی طرف سے بیرونی ممالک اور شخصیات پر عائد کردہ پابندیوں کے نگران اعلیٰ ترین اہلکار جان ہرلی کے مطابق اس وقت مناسب ترین لمحہ ہے کہ لبنان کی ایران نواز حزب اللہ ملیشیا کے لیے تہران کی طرف سے مالی وسائل کی فراہمی کو روکتے ہوئے حزب اللہ پر ہتھیار پھینکنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جائے۔

 

جان ہرلی نے، جو انسداد دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلیجنس سے متعلقہ امور کے نگران نائب وزیر خزانہ ہیں، ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران اس سال مبینہ طور پر حزب اللہ تک تقریباﹰ ایک بلین ڈالر کے برابر فنڈنگ پہنچانے میں کامیاب رہا اور ایسا اس کے باوجود ہوا کہ مغربی دنیا نے تہران پر ایسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جنہوں نے اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

 

’لبنان کو اس کے عوام کے حوالے کرنے کا وقت‘

 

امریکہ نے اس وقت تہران کے خلاف ’’یادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی ایسی حکمت عملی اپنا رکھی ہے، جس کے تحت وہ تہران کو یورینیم کی افزودگی سے بھی روکنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی تہران کے علاقائی اثر و رسوخ کو بھی کم سے کم کرنا چاہتا ہے۔

 

اس پس منظر میں امریکی نائب وزیر خزانہ جان ہرلی نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے، ’’لبنان میں اب وہ لمحہ آ گیا ہے کہ اگر حزب اللہ کو غیر مسلح کر دیا جائے، تو ایک ریاست کے طور پر لبنان کو دوبارہ اس کے عوام کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔‘‘

 

جان ہرلی نے نیوز ایجنسی روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’اس مقصد کے حصول کے لیے کلیدی اہمیت کی بات یہ ہو گی کہ لبنان میں ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کر دیا جائے، جس کی ابتدا انہی فنڈز کے ساتھ ہوتی ہے، جو تہران کی طرف سے حزب اللہ کو مہیا کیے جاتے ہیں۔‘‘

 

حزب اللہ اور اسرائیل کی جنگ

 

واشنگٹن حکومت خاص طور پر لبنان میں ایرانی اثر و رسوخ کو انتہائی کم کر دینا چاپتی ہے، جہاں ایران نواز حزب اللہ ملیشیا نے 2023ء اور 2024ء میں اسرائیل کے ساتھ ایک جنگ بھی لڑی تھی۔

 

حزب اللہ نے یہ جنگ غزہ پٹی میں اکتوبر 2023ء میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ شروع ہونے کے بعد اس فلسطینی عسکریت پسند تنظیم کی حمایت میں شروع کی تھی۔

 

اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین اس جنگ میں حزب اللہ کے بہت سے سرکردہ رہنما مارے گئے تھے اور ساتھ ہی حزب اللہ کی عسکری اور اقتصادی طاقت کو بھی بری طرح نقصان پہنچا تھا۔

 

یہ جنگ اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین طے پانے والے ایک فائر بندی معاہدے کے ساتھ رکی تھی، لیکن اس جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی طرف سے لبنان میں ابھی تک وقفے وقفے سے زمینی اور فضائی حملے کیے جاتے ہیں۔

 

اسرائیل کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے بھی سیزفائر کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں۔

 

ٹرمپ کی وسطی ایشیا کے رہنماؤں سے ملاقات

 

ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں قزاقستان کے صدر توقایف سے ملاقات کی، جس میں وسطی ایشیا کے مزید چار رہنماؤں، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان، نے بھی شرکت کی۔

 

امریکہ اس خطے میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو طویل عرصے سے روس کے زیرِ اثر رہا ہے اور اب چین کی دلچسپی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

 

ٹرمپ نے کہا کہ ''یہاں نمائندگی کرنے والے کچھ ممالک ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے جا رہے ہیں اور ان کے اعلانات آئندہ کچھ دنوں میں کر دیے جائیں گے ۔‘‘

ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ وہ ان معاہدوں کو توسیع دینا چاہتے ہیں، جو انہوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران کروائے تھے۔

 

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں ٹرمپ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔ اسی سال بعد میں مراکش نے بھی اسرائیل سے تعلقات استوار کیے۔

 

دیگر وسطی ایشیائی ممالک جیسے آذربائیجان اور ازبکستان، جن کے اسرائیل کے ساتھ پہلے ہی قریبی تعلقات ہیں، کو بھی ممکنہ طور پر ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے والے ممالک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدے ٹرمپ کی پہلی صدارت کی ایک نمایاں خارجہ پالیسی کامیابی سمجھے جاتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C