20/September/2025

خیبر: مولانا فضل الرحمٰن اور ایمل ولی کو نشانہ بنانے والے داعش کے 3 خودکش حملہ آور ہلاک

👁️ 424 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر: مولانا فضل الرحمٰن اور ایمل ولی کو نشانہ بنانے والے داعش کے 3 خودکش حملہ آور ہلاک

خیبر: مولانا فضل الرحمٰن اور ایمل ولی کو نشانہ بنانے والے داعش کے 3 خودکش حملہ آور ہلاک

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں ‏کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں داعش خراسان کے تین مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کا مقامی کمانڈر فضل نور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

 

سی ٹی ڈی کے مطابق خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ داعش خراسان کا مقامی کمانڈر فضل نور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لالہ چینہ دوسارکے علی مسجد کے قریب بڑی دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد سی ٹی ڈی کی ٹیم بھاری نفری اور جدید اسلحے کے ساتھ علاقے میں پہنچی، جہاں پہنچتے ہی دہشت گردوں نے فوراً فائرنگ شروع کردی۔

 

جوابی کارروائی میں تقریباً آدھے گھنٹے تک فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری رہا۔ بعدازاں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کے دوران تین دہشت گرد ہلاک پائے گئے۔ ان کی شناخت محمد نعیم عرف عبدالناصر، محمد کریم (ضلع کرک) اور نور نبی (ننگرہار، افغانستان) کے ناموں سے ہوئی۔ 

 

حکام کے مطابق محمد نعیم اور محمد کریم پشاور کے علاقے چمکنی میں ہونے والے خودکش دھماکے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

 

کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے تین ایس ایم جیز، بارہ میگزین، 135 کارتوس اور تین بنڈولیئر برآمد ہوئے۔ تاہم، کمانڈر فضل نور اپنے دیگر ساتھیوں سمیت رات کی تاریکی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ اس کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

 

واضح رہے کہ 12 جنوری 2024 کو پشاور کے نواحی علاقے متنی میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کرکے داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے ایک خودکش حملہ آور کو گرفتار کیا تھا۔ 

 

گرفتار مبینہ حملہ آور نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا تھا کہ وہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اسی آپریشن کے دوران دو مزید ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا، جن سے دو خودکش جیکٹس اور تین دستی بم برآمد ہوئے۔

 

سی ٹی ڈی کے مطابق ان گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان کے صوبہ پکتیا میں قائم مرکز سے فدائی ٹریننگ (خودکش حملوں) حاصل کی تھی اور وہ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔

 

خیبرپختونخوا اور سابقہ قبائلی اضلاع میں حالیہ مہینوں کے دوران داعش خراسان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ 

 

حکام کے بقول انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C