28/September/2025

خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ابہام پیدا کر رہی ہے، وزیرِ مملکت طلال چوہدری

👁️ 292 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ابہام پیدا کر رہی ہے، وزیرِ مملکت طلال چوہدری

خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ابہام پیدا کر رہی ہے، وزیرِ مملکت طلال چوہدری

فیصل آباد (نمائندہ ڈیلی اردو) وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے مسئلے پر دو ٹوک بیانیہ اپنانے کے بجائے ابہام پیدا کر رہی ہے، حالانکہ فورسز پاکستان کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی قیادت کو سیاسی جلسے جلوس کرنے کا حق ضرور حاصل ہے لیکن دہشت گردوں کے حوالے سے نرم رویہ ناقابلِ قبول ہے۔

 

فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بار بار افغانستان سے مذاکرات کی بات کرتی ہے، لیکن ان مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ صوبے اور بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں میں افغان شہریوں کی تعداد پہلے کے 30 سے 50 فیصد سے بڑھ کر اب 70 سے 80 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں اور کون انہیں پاکستان بھیجتا ہے؟ صوبائی حکومت اس پر بات کیوں نہیں کرتی؟ “کیا ان لوگوں سے مذاکرات کیے جائیں جو ہمارے سپاہیوں اور معصوم بچوں کو ہلاک کرتے ہیں اور بازاروں میں دھماکے کرتے ہیں؟ گولی سے بات کرنے والوں کے ساتھ گولی سے ہی بات ہوگی۔”

 

وزیرِ مملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے رویے سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو سی ٹی ڈی، فرانزک لیب اور سیف سٹی جیسے منصوبے شروع کرنے چاہیئں، مگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ 13 برس میں خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 600 ارب روپے ملے لیکن ان فنڈز سے فورسز کو نہ سہولتیں فراہم کی گئیں اور نہ ہتھیار۔ "یہ فنڈز کہاں گئے؟" انہوں نے سوال اٹھایا۔

 

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا مگر عملدرآمد میں رکاوٹیں صوبائی حکومتوں اور سیاسی قیادت کی کمزوریوں کے باعث ہیں۔ “میجر عدنان جیسے بہادر افسران اپنی جانیں دے رہے ہیں، سپاہیوں کو بچانے کے لیے ان پر لیٹ جاتے ہیں، مگر صوبائی حکومت کہاں کھڑی ہے؟”

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں وفاق کو للکارنے کے بجائے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گردوں کو للکاریں۔ “جو دہشت گردوں کے ساتھ کھڑا ہوگا، وہ دہشت گرد ہی سمجھا جائے گا۔ یہ ریڈ لائن ہے۔”

 

وزیر مملکت نے کرک میں حالیہ آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تھانہ شاہ سلیم کی حدود میں پولیس اور فورسز نے مشترکہ کارروائی میں 17 کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر کو ہلاک کیا جبکہ 6 سے زائد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ اس کامیاب آپریشن میں صرف 3 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر کارروائی کریں تو ایسے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

 

طلال چوہدری نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بیانیہ بھارت اور اسرائیل کے بیانیے جیسا ہے۔ "وہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں لیکن شہید ہونے والے سپاہیوں کے لیے ایک ٹوئٹ تک نہیں کرتے۔" انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے حوالے سے وضاحت کریں کہ اسے کون چلاتا ہے۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ “ہماری حکومت سے قبل چین، عرب ممالک، یورپ اور امریکا سب ناراض تھے، مگر اب تعلقات بحال ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ شاندار دفاعی معاہدہ کیا گیا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ پاک-امریکا تعلقات میں بہتری کا عکس حالیہ ملاقات میں نظر آیا جب وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کے ثمرات تب تک عوام تک نہیں پہنچ سکتے جب تک صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ تعاون نہ کریں۔

 

ایشیا کپ کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ کھیل کو کھیل رہنے دیا جانا چاہیے، بھارت کے خلاف جیت کا مزہ ہی کچھ اور ہے، شائقین کو ٹیم پر بلاوجہ تنقید نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں سپورٹ کرنا چاہیے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C