13/November/2025

خیبرپختونخوا: دہشت گردی کے خلاف سب کو ساتھ لے کر کارروائی کی جائے گی، امن جرگہ اعلامیہ

👁️ 223 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبرپختونخوا: دہشت گردی کے خلاف سب کو ساتھ لے کر کارروائی کی جائے گی، امن جرگہ اعلامیہ

خیبرپختونخوا: دہشت گردی کے خلاف سب کو ساتھ لے کر کارروائی کی جائے گی، امن جرگہ اعلامیہ

پشاور (ڈیلی اردو ) خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہونے والے امن جرگے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی خارجہ پالیسی میں وفاق صوبائی حکومت سے مشاورت کرے۔

 

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جرگہ یہ تجویز کرتا ہے صوبائی حکومت اوراسمبلی صوبائی ایکشن پلان مرتب کرے اور پاک افغان بارڈر کو تجارت کے لیے فی الفور کھولا جائے۔

 

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’امن جرگہ متفقہ طور پر ضم اضلاع سمیت صوبے میں جاری دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر ہر قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔‘

 

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن وامان سے متعلق صوبائی اسمبلی کی متفقہ قراردادوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔

 

بدھ کو ہونے والے خیبرپختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی سمیت مختلف جماعتوں کے وفود نے شرکت کی۔

 

جرگے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت سیاسی قائدین نے خطاب کیا۔

 

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے امن جرگہ کا اعلامیہ پڑھا اور کہا کہ ’امن سے متعلق آج تمام پارٹیاں یک آواز ہیں، تجاویز پررات کو بھی بیٹھے تھے اور آج بھی لائحہ عمل تیار کیا، آپ سب نے ہمارے دست و بازو مضبوط کیے۔‘

 

اعلامیے کے مطابق صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی داخلی سلامتی کی قیادت کریں گی، پولیس ضرورت کے مطابق آئینی طور پر باقی اداروں سے معاونت طلب کرسکتی ہے۔

 

جرگے کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق حکومت صوبے میں امن وامان کی مخدوش صورتحال میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو خصوصی مالی معاونت فراہم کرے گی۔

 

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھتہ خوری اور غیر قانونی محصولات کے خاتمے کے لیے ایک مربوط پالیسی بنائی جائے۔ ’صوبائی سطح پر امن کے فورم قائم کیے جائیں جن میں اکثریت غیرسرکاری اراکین کی ہو۔‘

 

جرگے کے اعلامیے کے مطابق مقامی حکومتوں کے استحکام اور مالی تحفظ کے لیے آئینی ترمیم کی جائے اور صوبائی فنانس کمیشن کو قومی فنانس کمیشن کے ساتھ منسلک کیا جائے۔

 

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن جرگہ یہ تجویز کرتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کو کم کیا جائے اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق بلایا جائے۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا خطاب

 

خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر آپ سیاستدانوں کو بھی عقل اور شعو والا سمجھتے ہیں تو پھر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو بٹھائیں اور بند کمروں سے نکل کر پالیسی بنائیں۔ ان کی رائے میں ایسی مشاورت کے نتیجے میں ’حل نکلے گا اور وہ سب کو قابل قبول ہوگا۔‘

 

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ جاری ہے جس میں صوبائی گورنر سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شریک ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پہلی مرتبہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں اور انھیں امن جرگہ میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی۔

 

اس جرگے سے اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا ’ہم بار بار امن کی بات کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو برا لگتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط ہوتے آئے ہیں، ان فیصلوں سے ابھی تک دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔‘

 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’ہمیں بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے ہوں گے اور دہشتگردی کے خلاف طویل المدتی پالیسی اپنانی ہوگی۔‘

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’ہماری کوشش امن کے لیے ہے، دہشتگردی کے ناسور کے خلاف آج کے جرگے میں پائیدار حل نکلے گا، امن تب قائم ہوگا جب دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا۔‘

 

ان کا کہنا تھا ’ہم چاہتے تھے کہ اس پالیسی میں شفٹ آنا چاہیے، وہ شفٹ بند کمروں سے نکل کر آئے گا، سیاستدانوں، سیکیورٹی فورسز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بیٹھا کر پالیسی بنائی جائے، اگر پھر اس پالیسی پر عملدرآمد ہوگا تو کوئی حل نکلے گا، وہ پالیسی پھر تمام لوگوں کو قابل قبول ہوگی اور خیبر پختونخوا سے دہشتگردی کا ناسور مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔‘

 

انھوں نے کہا کہ ’سب نے قربانیاں دی ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام نے قربانیاں دی ہیں، تمام سیاسی لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، کسی نے بیٹے، کسی نے شوہر اور کسی نے والد کو کھویا ہے۔‘

 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’یہ عوام ہمارے ہیں، سیاست ہر ایک کی اپنی اپنی ہے لیکن امن ہمارا مشترکہ ہے، جب یہاں بم پھٹتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ مرنے والا پی ٹی آئی کا ہے یا پیپلز پارٹی کا، یہاں بیٹھے ہر فرد نے قربانی دی ہے، دہشت گردی کے خلاف عوام، سیاستدان اورسکیورٹی فورسز سب نے قربانیاں دی ہیں، سب نے قربانیاں دیں تو 2018 میں امن قائم ہوا تھا، ابھی ایک دفعہ پھر دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے۔‘

 

ان کا کہنا تھا ’پاک-افغان مذاکرات کو ہم نے خوش آئند قرار دیا ہے، ہماری کوشش امن کے لیے ہے، جنگ آخری آپشن ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’این ایف سی شئیر 400 ارب روپے بنتا ہے، ہمیں نہیں مل رہا ہے، اگر ایک فیصد دہشتگردی کے باعث ملتا ہے تو کسی کو اس کا پوچھنے کا حق نہیں ہے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C