14/August/2025

خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملے؛ 6 پولیس اہلکار ہلاک، 9 زخمی

👁️ 300 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملے؛ 6 پولیس اہلکار ہلاک، 9 زخمی

خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملے؛ 6 پولیس اہلکار ہلاک، 9 زخمی

پشاور (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبرپختونخوا میں مختلف مقامات پر پولیس پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 6 اہلکار ہلاک اور 9 افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملے پشاور کے نواحی علاقوں متنی، حسن خیل، دیر بالا، جمرود، بنوں، کرم، صوابی اور چارسدہ میں پیش آئے۔

 

پولیس کے مطابق پشاور میں تھانہ حسن خیل اور دو پولیس چوکیوں پر ہونے والے حملے پولیس نے پسپا کر دیے۔ اس دوران ایک پولیس اہلکار ابوبکر ہلاک اور ایک اہلکار ہارون زخمی ہوا۔ دہشت گردوں نے کوہاٹ روڈ پر متنی میں چوکی ادیزئی اور حسن خیل پولیس اسٹیشن پر بیک وقت حملہ کیا، تاہم پولیس نے بہادری سے مقابلہ کیا۔

 

دیر بالا میں دہشت گردوں نے کیو آر ایف موبائل کو نشانہ بنایا، جس میں 3 پولیس اہلکار ہلاک اور 8 زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ہلاک اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں صبح 10 بجے ادا کی جائے گی، جس میں ڈی پی او اور دیگر اعلیٰ افسران کی شرکت متوقع ہے۔

 

ضلع جمرود میں سخی پل چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں نے ایف سی اور پولیس کی مشترکہ چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، مگر جوانوں کی بھرپور جوابی کارروائی سے حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ اسی طرح ناصر باغ اور متنی میں بھی دہشت گردوں کے حملے پولیس نے دلیری اور پیشہ ورانہ مہارت سے پسپا کر دیے۔

 

بنوں میں تھانہ ہوید کی حدود میں مزانگہ پولیس چوکی پر حملے میں اہلکار محفوظ رہے، جبکہ چارسدہ میں ترلاندی پولیس چوکی پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ہینڈ گرنیڈ حملہ کیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

 

کرم پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی خفیہ اطلاع پر نستی کوٹ گاؤں میں کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کے اہم کمانڈر عابد حسین عرف تہران طوری کے گھر پر کی گئی۔ اس دوران مسلح دہشت گردوں نے پولیس اور سکیورٹی فورسز پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک گھنٹے تک فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری رہا۔ فائرنگ کے دوران تھانہ روضہ کے ایڈیشنل ایس ایچ او قیصر حسین ہلاک ہوگئے۔

 

پولیس حکام کے مطابق تہران طوری کا تعلق ایرانی حمایت یافتہ کالعدم زینبیون بریگیڈ سے ہے اور وہ پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کرم میں شیعہ سنی فسادات سمیت قتل، اغوا اور بگن بازار کو نذر آتش کرنے جیسے سنگین مقدمات میں انتہائی مطلوب ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد ان کی گرفتاری تھا۔

 

ضلع صوابی کی بام خیل میں پولیس چوکی پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے ہینڈ گرنیڈ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل اور ایک پرائیویٹ باورچی زخمی ہو گئے

 

پولیس حکام کے مطابق چیک پوسٹوں اور تھانوں کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پولیس مکمل الرٹ ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C