04/September/2025

داعش نے کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

👁️ 325 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
داعش نے کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

داعش نے کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

واشنگٹن (ش ح ط) نام نہاد اسلامی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے جلسے کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔

 

داعش کی خبر رساں ایجنسی "اعماق" کے مطابق اس کے ذیلی گروہ "اسلامک اسٹیٹ پاکستان (ISPP)" نے بلوچستان نیشنل پارٹی کو نشانہ بنانے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی خودکش بمبار "علی المہاجر" نے کی۔

 

منگل کی شب بلوچستان کے صوبائی حکومت کوئٹہ میں بی این پی (مینگل) کے جلسے کے بعد ہونے والے دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔

 

دھماکے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق رکن اسمبلی میر احمد نواز بلوچ زخمی ہوئے، تاہم تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین بشمول سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، میر کبیر احمد محمد شئی اور اصغر خان اچکزئی محفوظ رہے۔

 

بی این پی رہنما غلام نبی مری کے مطابق دھماکہ سریاب کے علاقے شاہوانی اسٹیڈیم کے قریب پارکنگ ایریا میں جلسے کے اختتام کے 10 سے 15 منٹ بعد ہوا۔ پولیس اور سیکیورٹی ذرائع نے دھماکے کو خودکش قرار دیا تھا۔

 

صوبائی حکومت نے واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دھماکے کی شدید مذمت کی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے فضائی ذرائع سے کراچی منتقل کرنے کا حکم دیا۔

 

یہ حملہ مارچ 2025 میں بی این پی مینگل کے لانگ مارچ کے دوران مستونگ کے قریب خودکش حملے کے بعد کا تازہ واقعہ ہے، جب سردار اختر مینگل اور دیگر رہنما محفوظ رہے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C