25/February/2026

دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دونگا، امریکی صدر

👁️ 185 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دونگا، امریکی صدر

دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دونگا، امریکی صدر

واشنگٹن (ش ح ط) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے سامنے اپنا سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب دیا۔ یہ ان کے دوسرے دورِ صدارت کا پہلا خطاب تھا اور تقریباً ایک گھنٹہ اور 50 منٹ طویل رہا، جس کے دوران صدر ٹرمپ نے کئی اہم امور پر تفصیلی بات کی۔

 

ایران اور بین الاقوامی امور

 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں روکیں اور ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد ہی امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے میزائل یورپی ممالک اور امریکی اڈوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

 

ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی زور دیا اور کہا “مڈ نائٹ ہیمر کے بعد ایران کو خبردار کیا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار بنانے کے پروگرام کو دوبارہ تعمیر نہ کرے، مگر وہ اب بھی اپنے جوہری عزائم آگے بڑھا رہا ہے۔ ایران مزید امریکی حملوں سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک پابند نہیں ہوا کہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ 

 

 

میری ترجیح یہ ہے کہ یہ مسئلہ سفارتکاری کے ذریعے حل ہو، لیکن میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد سرپرست کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا۔”

 

صدر نے کہا کہ ایران کے بارے میں ان کا سخت موقف امریکی حکمت عملی ’’طاقت کے ذریعے امن‘‘ کا حصہ ہے اور اس میں امریکی فوج کو زمین پر سب سے طاقتور بنانے کی کوشش شامل ہے۔

 

اقتصادی کامیابیاں

 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی تاریخ میں سرحدیں آج محفوظ ترین ہیں اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی غیر قانونی شخص امریکہ میں داخل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر ہمیشہ لوگوں کو امریکہ آنے کی اجازت دی جائے گی۔

 

ٹرمپ نے بتایا کہ افراطِ زر میں غیر معمولی کمی لائی گئی، 12 ماہ میں 18 کھرب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے وعدے ممکن بنائے گئے، اور وینزویلا سے 18 ملین بیرل تیل حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ’’تیل تلاش کرو اور نکالو‘‘ کا وعدہ پورا کیا۔

 

صدر نے کہا کہ امریکہ میں ڈی ای آئی ختم کر دیا گیا، اسٹیٹ آف دی یونین مضبوط ہے، اور امریکہ اتنا کامیاب ہو رہا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ مزید کامیابیاں حاصل کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی کی طرح لاس اینجلس کو بھی محفوظ شہر بنایا جائے گا۔

 

ٹیکس اصلاحات اور تجارتی اقدامات

 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کانگریس سے کہا کہ ٹیکس کٹوتی کی جائے اور ری پبلکنز نے یہ ممکن بنایا، جبکہ ہر ڈیموکریٹ نے مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک امریکہ کو لوٹ رہے تھے، وہ اب ادائیگیاں کر رہے ہیں اور تمام ممالک ٹیرف کے باوجود امریکہ کے ساتھ ڈیلز برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

 

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کئی جنگیں ٹیرف کی مدد سے ختم کیں اور ٹیرف آج کے دور کے انکم ٹیکس کی جگہ لے گا۔ انہوں نے بائیڈن کے دور کی اقتصادی ناکامیوں پر بھی تنقید کی۔

 

صدر نے صحتِ عامہ کے شعبے میں اقدامات، ادویات کی قیمتوں میں کمی، اور انشورنس کے پیسے براہِ راست لوگوں تک پہنچانے کے منصوبے بھی بیان کیے۔

 

داخلی سیاست اور غیر قانونی امیگریشن

 

صدر ٹرمپ نے خطاب میں الہان عمر اور رشیدہ طلیب پر بھی تنقید کی اور کہا کہ شرم آنی چاہیے جو رکنِ کانگریس غیر قانونی امیگرینٹس کو نکالنے میں رکاوٹ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہوم لینڈ سیکیورٹی کے بجٹ کو مکمل طور پر بحال کرے اور اراکین کا پہلا فرض یہ ہونا چاہیے کہ غیر قانونی امیگرینٹس کو سپورٹ نہ کریں۔

 

صدر نے کہا کہ تمام ووٹرز کو شہریت کا ثبوت دینا چاہیے اور میل ان بیلٹس صرف بیماری اور فوجی خدمات کے لیے دیے جائیں، کیونکہ ڈیموکریٹس ووٹر آئی ڈی نہیں چاہتے تاکہ الیکشن میں دھوکہ دہی ہو سکے۔

 

افغانستان اور دیگر بین الاقوامی امور

 

صدر نے کہا کہ افغانستان کے دہشت گرد نے وائٹ ہاؤس کے باہر خاتون اہلکار کو گولی ماری، اور ایسے عناصر امریکہ میں نہیں ہونے چاہئیں۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 8 جنگیں ختم کیں، جن میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی جنگیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر کشیدگی، اسرائیل اور ایران کی جنگ، کانگو اور روانڈا کی جنگ، اور غزہ کی جنگ شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم پاکستان نے ان کے کام کو سراہا اور کہا کہ 35 ملین لوگوں کی جان بچائی گئی۔

 

دیگر اہم نکات

 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ٹیک کمپنیاں اپنے پاور پلانٹ بنائیں تاکہ بجلی کی قیمتیں عوام کے لیے کم ہوں، کانگریس سنگل فیملی کے گھروں کو تحفظ دے، اور سوشل سیکیورٹی و میڈی کیئر کے پروگرام محفوظ رہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ کمرشل ڈرائیونگ لائسنس غیر قانونی شہریوں کو نہیں دیے جائیں، اور مذہب سے محبت معاشرے میں تیزی سے واپس آ رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پرتشدد واقعات میں ملوث مجرم جیل سے باہر نہ نکلیں۔

 

خطاب کے دوران ماحول

 

صدر کے خطاب کے دوران اکثر ڈیموکریٹ اراکین کے چہرے بجھے ہوئے نظر آئے۔ امریکی رکنِ کانگریس آل گرین نے بینر لہرانے کی کوشش کی، جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔ صدر کے اہلِ خانہ اور کابینہ کے اراکین بھی موجود تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C