21/November/2025

سمندری میں ہلاک ہونے والا آصف: کالعدم ٹی ایل پی کارکن اور مبینہ آئی ایس آئی اہلکار ہونے کا انکشاف

👁️ 333 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سمندری میں ہلاک ہونے والا آصف: کالعدم ٹی ایل پی کارکن اور مبینہ آئی ایس آئی اہلکار ہونے کا انکشاف

سمندری میں ہلاک ہونے والا آصف: کالعدم ٹی ایل پی کارکن اور مبینہ آئی ایس آئی اہلکار ہونے کا انکشاف

لاہور (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل سمندری میں 17 اکتوبر کو پیش آنے والے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے محمد آصف کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات نے اس واقعے کو انتہائی پیچیدہ اور حساس بنا دیا ہے، کیونکہ ان کا تعلق بیک وقت کالعدم تحریک لبیک پاکستان، پاکستان فوج کے طاقتور خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) سے جوڑا جا رہا ہے۔ 

 

پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے کے بعد ٹی ایل پی نے ابتدا میں انہیں اپنا کارکن ماننے سے انکار کیا، تاہم بعد میں ان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ تنظیم کا حصہ تھے۔ 

 

عسکری ذرائع اور ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد آصف پاک فوج میں سپاہی کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے، مگر جنوری 2025 میں بنا اطلاع غائب ہوگئے تھے اور ان پر ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزامات بھی تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریدکے آپریشن کے بعد وہ مکمل طور پر روپوش ہوگئے تھے اور انہیں تلاش کیا جا رہا تھا۔ 

 

ایف آئی آر کے مطابق 17 اکتوبر کو محمد آصف نے بازار میں اچانک پولیس پر فائرنگ کی جس میں ڈرائیور افتخار ہلاک ہوا جبکہ مسجد کی جانب جاتے ہوئے ایک کانسٹیبل کو بھی زخمی کیا گیا۔ 

 

مسجد میں داخل ہوکر انہوں نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا کہ آج اگر کوئی سامنے آیا تو اسے جان سے مار دیں گے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق وہ خود کو فوج کا تربیت یافتہ قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مریدکے میں پولیس کی طرف سے ہونے والے ظلم کے وہ گواہ ہیں اور اسی لیے انہیں بھی مارا جا رہا ہے۔ 

 

پولیس نے مسجد کو گھیر کر چھتوں سے فائرنگ کی جس سے آصف مسجد کی سیڑھیوں پر ہلاک ہوگئے۔ عینی شاہد کے مطابق ہلاکت کے بعد لاش فوری طور پر اہلخانہ کے حوالے نہیں کی گئی، جبکہ انتظامیہ کے ایک افسر نے تصدیق کی کہ آصف کی تدفین اسی روز سرکاری اہلکاروں نے خود کی۔ 

 

ہلاکت کے بعد گردش کرنے والی ویڈیوز میں محمد آصف مریدکے آپریشن کے بدلے کا بار بار اعلان کرتے رہے تھے۔ ڈیلی اردو کو ملنے والی معلومات کے مطابق محمد آصف مریدکے آپریشن کا بدلہ لینے کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز میں بار بار اعلان کرتا رہا تھا اور اپنی ہر ویڈیو میں اپنے گاؤں اور علاقے کا نام بھی بتاتا رہا تھا، جس کے باعث اس کی شناخت اور لوکیشن مسلسل خطرے میں رہی۔ 

 

اپنی ویڈیوز میں وہ اعلیٰ سرکاری حکام کو بھی دھمکیاں دیتے رہے اور خفیہ اداروں پر الزامات عائد کرتے رہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق وہ مریدکے احتجاج کے دوران ٹی ایل پی کے اس اسکواڈ میں شامل تھے جو سعد رضوی کے کنٹینر کی حفاظت پر مامور تھا۔ 

 

انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی سے ایک 20 منٹ کی ویڈیو کال میں اپنا نام، پتا اور خاندانی تفصیلات بھی بتائیں اور دعویٰ کیا کہ ان کے گھروں پر روزانہ چھاپے مارے جاتے ہیں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ وہ فوج سے استعفیٰ دے چکے ہیں، لیکن بی بی سی کے پاس موجود ان کا سروس کارڈ انہیں اب بھی سپاہی کے عہدے پر ظاہر کرتا ہے۔ پولیس، سی پی او فیصل آباد اور ضلعی انتظامیہ سے بی بی سی نے متعدد بار رابطہ کیا لیکن کسی ادارے نے جواب نہیں دیا اور صرف اتنا بتایا گیا کہ معاملہ سی ٹی ڈی کے پاس ہے۔ 

 

حادثے کی وجوہات، آصف کے فوجی پس منظر، ٹی ایل پی سے تعلق، انٹیلیجنس اداروں سے وابستگی اور مسلسل دھمکی آمیز ویڈیوز کے باوجود حکام کی خاموشی نے واقعے کے کئی پہلوؤں کو مزید مشتبہ بنا دیا ہے اور اس معاملے پر کئی سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C