30/September/2025

سیالکوٹ: احمدی کمیونٹی پر حملے میں ٹی ایل پی کے 250 افراد کیخلاف مقدمہ درج، 30 گرفتار

👁️ 349 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سیالکوٹ: احمدی کمیونٹی پر حملے میں ٹی ایل پی کے 250 افراد کیخلاف مقدمہ درج، 30 گرفتار

سیالکوٹ: احمدی کمیونٹی پر حملے میں ٹی ایل پی کے 250 افراد کیخلاف مقدمہ درج، 30 گرفتار

سیالکوٹ (ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں احمدی کمیونٹی کے افراد پر حملے کے معاملے میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے 250 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور 30 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پولیس نے توہینِ مذہب کے قانون کی دفعہ 298سی کے تحت کی ہے۔

 

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹی ایل پی کے ارکان نے احمدی کمیونٹی کے افراد پر حملہ کیا اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا۔ پولیس نے اس کارروائی کے دوران 30 افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

 

واقعہ تھانہ موترہ کے علاقے پیرو چک گاؤں میں اس وقت پیش آیا جب ایک احمدی خاتون کی تدفین کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کرگیا۔

 

مقدمہ اور دفعات

 

پولیس کے مطابق فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) سب انسپکٹر عامر علی سندھو کی مدعیت میں درج کی گئی، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 395 (ڈکیتی)، 353 (سرکاری اہلکار پر حملہ)، 436 (گھر کو آگ لگانا)، 153-اے (مذہبی منافرت)، 295-اے (مذہبی جذبات مجروح کرنا)، 324 (قتل کی کوشش)، 148 (ہتھیاروں کے ساتھ بلوہ) اور 149 (اجتماعی جرم) شامل کی گئی ہیں، جبکہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 بھی لگائی گئی ہے۔

 

ایف آئی آر کے مطابق پولیس موقع پر پہنچی تو 200 سے 250 افراد ہتھیاروں اور ڈنڈوں سے لیس موجود تھے، جنہوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر حملہ کیا۔ تصادم کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

 

پولیس اور انتظامیہ کا موقف

 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) فیصل شہزاد نے بتایا کہ واقعے میں مجموعی طور پر 8 افراد زخمی ہوئے، جن میں پانچ احمدی کمیونٹی کے اور تین تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ہیں۔ ایک احمدی کو گولی بھی لگی تاہم سب زخمی خطرے سے باہر ہیں۔

 

ڈی پی او نے کہا کہ واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 250 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا اور 30 کو گرفتار کرلیا ہے۔ ان کے مطابق حملہ آوروں میں ٹی ایل پی کے ارکان بھی شامل ہیں جنہوں نے احمدیوں کے فارم ہاؤسز اور ایک دکان کو آگ لگائی۔

 

ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے کہا کہ پیرو چک میں امن و امان سے متعلق ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں اور پولیس اپنی کارروائی عمل میں لا رہی ہے۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ قبرستان کے معاملے کو بھی جلد حل کر لیا جائے گا، اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

 

جماعت احمدیہ کا مؤقف

 

جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان عامر محمود نے کہا کہ پیرو چک ضلع سیالکوٹ کے قدیم قبرستان میں پچھلے ڈھائی سال سے احمدیوں کو تدفین کی اجازت نہیں دی جا رہی اور برادری کو دور دراز علاقوں میں جا کر تدفین کرنا پڑتی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اس قبرستان میں احمدیوں کی تقریباً 220 قبریں ہیں جبکہ دیگر مسالک کے بھی 100 کے قریب افراد دفن ہیں۔ تاہم 2022 کے بعد سے احمدیوں پر اپنے ہی قبرستان میں تدفین پر غیرقانونی پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

 

پس منظر

 

ابتدائی تحقیقات کے مطابق 21 ستمبر کو ایک احمدی خاتون کی تدفین کی اجازت نہ دی گئی، جس کے بعد مذہبی منافرت نے شدت اختیار کی اور دونوں گروہوں میں تصادم ہوا۔

 

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ رواں سال جولائی میں ڈسکہ میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے کے الزام میں 51 افراد گرفتار کیے گئے تھے، جبکہ اگست میں فیصل آباد میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں کو آگ لگانے کے الزام میں 300 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے۔

 

انسانی حقوق کی رپورٹس

 

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی آر ایچ) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق 1984 سے 2024 تک احمدی برادری کے 280 افراد کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ 415 افراد مختلف حملوں کا نشانہ بنے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف 2023 کے نو ماہ میں 39 بار احمدیوں کی لاشوں کو قبروں سے نکالا گیا، 99 بار قبروں کی بے حرمتی ہوئی اور 96 بار تدفین کی اجازت نہیں دی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C