07/August/2025

شام میں بشار الاسد کے سقوط کے بعد 9,889 افراد ہلاک: شامی انسانی حقوق تنظیم کی رپورٹ

👁️ 432 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام میں بشار الاسد کے سقوط کے بعد 9,889 افراد ہلاک: شامی انسانی حقوق تنظیم کی رپورٹ

شام میں بشار الاسد کے سقوط کے بعد 9,889 افراد ہلاک: شامی انسانی حقوق تنظیم کی رپورٹ

دمشق (ڈیلی اردو) – شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بشار الاسد کے نظام کے زوال کے بعد سے لے کر اگست 2025 کے آغاز تک ملک بھر میں 9,889 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں 8 دسمبر 2024 سے 6 اگست 2025 کے دوران پیش آنے والی پرتشدد کارروائیوں، بدامنی، اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 7,449 عام شہری شامل ہیں، جن میں 396 بچے اور 541 خواتین بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں مارچ 2025 میں ہوئیں جب 2,644 افراد مارے گئے، جن میں 2,069 عام شہری تھے۔ اس دوران 1,726 افراد کو شناخت کی بنیاد پر فیلڈ میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جبکہ ساحلی علاقوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے بھی ہوئے۔

8 دسمبر 2024 سے دسمبر کے اختتام تک کے عرصے میں 2,354 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 1,894 شہری تھے۔ جولائی 2025 کے دوران صرف السویداء شہر میں جھڑپوں کے نتیجے میں 1,733 افراد مارے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 2,535 فیلڈ ایگزیکیوشن کی دستاویزات جمع کی گئی ہیں، جبکہ بے ترتیب قتل، بم دھماکے، اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید تفصیلات کے مطابق:

866 افراد فوجی آپریشنز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

590 افراد کو نامعلوم افراد نے قتل کیا۔

1,750 افراد کی ہلاکتیں نامعلوم حالات میں ہوئیں۔

571 افراد بارودی سرنگوں اور جنگی مواد کے دھماکوں سے ہلاک ہوئے۔

تشدد کے نتیجے میں بھی متعدد ہلاکتیں ہوئیں جن میں:

فوجی آپریشنز کی حراست میں 50 مرد ہلاک ہوئے۔

"قومی فوج" کی جیلوں میں 2 مرد مارے گئے۔

"شامی ڈیموکریٹک فورسز" کی قید میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

اس کے علاوہ ترک اور اسرائیلی حملوں، "قومی فوج"، "قسد"، اور داعش کی کارروائیوں میں بھی عام شہریوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر شہری ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2,440 ہے، جن میں:

1,010 فوجی آپریشنز کے اہلکار

630 اسلامی و مسلح تنظیموں کے جنگجو

374 مقامی جنگجو

268 کرد جنگجو

ایران، ترکی اور داعش سے وابستہ عناصر شامل ہیں۔

رپورٹ میں تحقیقات میں شفافیت کے فقدان اور ساحلی علاقوں میں ہونے والے قتل عام کی تحقیقات میں غیر مؤثر اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت کے حامی عناصر انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنان کے خلاف منظم میڈیا مہم چلا رہے ہیں تاکہ ان کی ساکھ متاثر کی جا سکے اور فرقہ وارانہ نظریات کو سیاسی مؤقف سے جوڑا جا سکے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C