18/July/2025

شمالی وزیرستان میں اتمانزئی جرگہ کا دوٹوک مؤقف: ’’آپریشن یا جبری نقل مکانی ناقابل قبول‘‘

👁️ 311 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شمالی وزیرستان میں اتمانزئی جرگہ کا دوٹوک مؤقف: ’’آپریشن یا جبری نقل مکانی ناقابل قبول‘‘

شمالی وزیرستان میں اتمانزئی جرگہ کا دوٹوک مؤقف: ’’آپریشن یا جبری نقل مکانی ناقابل قبول‘‘

شمالی وزیرستان (ڈیلی اردو ) قبائلی روایات، اتحاد اور شعور کا عکاس ایک بڑا جرگہ، جس میں اُتمانزئی قبیلے کے عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور کاروباری نمائندگان نے ریاستی پالیسیوں پر کھل کر مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ علاقے میں مزید کوئی آپریشن یا جبری نقل مکانی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ جرگے کا مؤقف تھا کہ پائیدار امن صرف مشاورت، انصاف اور سیاسی حکمت عملی سے ممکن ہے۔

ضلع ہیڈکوارٹر میرانشاہ میں منعقدہ اس جرگے میں شمالی وزیرستان کے دور دراز علاقوں سے آنے والے معتبر مشران شریک ہوئے۔ جرگے کے ترجمان مفتی بیت اللہ نے کہا کہ بارہا کیے گئے آپریشنز نے مسائل کو سلجھانے کے بجائے قبائل کے زخموں میں اضافہ کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’اتمانزئی قبیلہ، مقامی سیاسی قیادت اور عام عوام سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں، اور جبری پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔‘‘

مفتی بیت اللہ نے بتایا کہ کچھ ریاستی سطح پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے، جن میں پاک افغان بارڈر غلام خان پوائنٹ کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی، کرفیو میں نرمی، اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی عارضی اجازت شامل ہے، تاہم یہ اقدامات ناکافی ہیں جب تک عوامی اعتماد مکمل طور پر بحال نہ ہو۔

اس موقع پر ڈاکٹر گل عالم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن کی بحالی حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اور اس میں تاخیر ناقابل قبول ہے۔ جرگے میں شریک مشران نے ملک اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا، جو گزشتہ آٹھ ماہ سے زیر حراست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی رہائی عوامی اعتماد کی بحالی کی اولین شرط ہے۔

اتمانزئی جرگے نے اعلان کیا کہ آئندہ امن جرگہ تحصیل دتہ خیل میں منعقد ہوگا، جہاں قبائلی مشران اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C