طالبان کو جو کچھ مذاکرات میں نہیں ملا، وہ طاقت سے حاصل کر لیں گے، خفیہ رپورٹ میں انکشاف
👁️ 44 بار دیکھا گیا
طالبان کو جو کچھ مذاکرات میں نہیں ملا، وہ طاقت سے حاصل کر لیں گے، خفیہ رپورٹ میں انکشاف
نیویارک (ڈیلی اردو/وی او اے) اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی انٹیلی جنس کے نئے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان امریکہ اور اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد وہ سب کچھ طاقت سے حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں جو کچھ وہ مذاکرات کی میز پر حاصل نہیں کر سکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم یعنی پابندیوں کا جائزہ لینے والی ٹیم نے جمعرات کو رپورٹ جاری کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگرچہ طالبان ابھی تک گزشتہ سال امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی، تکنیکی طور پر، تعمیل کر رہے ہیں لیکن انہوں نے اختیارات پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ وہ ملک کے نصف سے زیادہ ضلعی انتظامی مراکز پر براہ راست کنٹرول رکھے ہوئے ہیں اور شہری علاقوں سے باہر 70 فیصد علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ محض آغاز ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق: ’’ طالبان کے نعرے اور موسم گرما کے لڑائی کے سیزن کی تیاریوں کی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ سال 2021 میں اپنا فوجی آپریشن بڑھا رہے ہیں، بھلے وہ حملوں کا اعلان کریں یا نہ کریں‘‘
A new #UNSC report on the security situation in Afghanistan claims that, despite "stated Taliban commitments," Al-Qaida leadership plans to maintain "its traditional safe haven" in the country. https://t.co/SeEIM3ziiv
— Security Assistance Monitor (@SAMonitorOrg) June 4, 2021
انٹیلی جنس رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان کمانڈروں نے اہم شہروں کے نزدیک اپنی فورسز کو بڑھا دیا ہے اور وہ مستقبل میں اس وقت اپنے عسکری آپریشنز کے حصے کے طور پر حملوں کے لیے تیار ہیں جب غیر ملکی افواج ان کو موثر انداز میں جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ اس بارے میں کم ہی ثبوت ہے جو ظاہر کرتا ہو کہ طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہوں جو امریکہ کے ساتھ اس کے معاہدے میں مطلوب ہے۔
اس کے برعکس، خفیہ معلومات یہ ظاہر کرتی ہی کہ طالبان اور القاعدہ کے تعلقات ذاتی مراسم، آپس میں شادیوں اور مشترکہ مزاحمت کے سبب مزید گہرے ہو گئے ہیں اور اب یہ تعلقات دوسری نسل تک منتقل ہو چکے ہیں۔
’’ القاعدہ کے اراکین کو طالبان نے دور دراز کے علاقوں میں بھجوا دیا ہے تاکہ ان کو ممکنہ طور پر لوگوں کے سامنے آنے اور نشانہ بنائے جانے سے بچایا جا سکے‘‘
رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے پانچ سو کے قریب ممبر جو مرکزی گروپ اور القاعدہ ان انڈین سب کانٹینینٹ (AQIS) سے وابستہ ہیں، وہ پندرہ صوبوں میں رہائش رکھے ہوئے ہیں۔
طالبان نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔
د ملګرو ملتونو د امنیت شورا د وروستي راپور په اړه د اسلامي امارت د ویاند څرګندونې https://t.co/Ppwy0I09ct pic.twitter.com/3hhQSpzfQv
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) June 3, 2021
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پشتو زبان میں ایک بیان میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے یہ رپورٹ دشمن کی ایجنسیوں کی اطلاعات پر مرتب کی گئی ہے۔
ترجمان طالبان کے مطابق اس طرح کی یک طرفہ رپورٹیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتی ہیں اور اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اسلامی امارات کے نمائندے بین الافغان مذاکرات کی میز پر جانے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں تاکہ مذاکرات میں پیش رفت ہو اور معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد ہو سکے۔
امریکہ کے عہدیداروں نے بھی جمعرات کو اس رپورٹ کو تسلیم کیا ہے لیکن اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں امن کا واحد اور پائیدار راستہ بین الافغان مذاکرات سے نکلتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا
’’ افغانستان میں ہمارا حتمی مقصد چار دہائیوں سے جاری تنازعے کا خاتمہ ہے۔ اس طرح کے ماحول میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا امکان کم ہے‘‘
نیڈ پرائس طالبان کو بظاہر متنبہ کرتے ہوئے نظر آئے کہ تشدد سے باز رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا افغانستان کے اندر طاقت سے کسی حکومت کے مسلط ہونے کو قبول نہیں کرے گی۔
امریکہ کے ایک اور اہم عہدیدار زلمے خلیل زاد، جو افغان مصالحتی عمل کے لیے نمائندہ خصوصی ہیں، کہہ چکے ہیں کہ طالبان کی سب سے بڑی خواہش خود کو بین الاقوامی برادری سے تسلیم کروانا ہے۔ ان کے بقول طالبان سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور تشدد کا راستہ اختیار کیا تو ان کو قبولیت اور بین الاقوامی امداد سے محروم ہونا پڑے گا۔
افغانستان میں طالبان کی پیش رفت جاری
افغانستان کے جنوبی حصے میں طالبان نے سرکاری فورسز کی طرف سے کسی مزاحمت کے بغیر ایک اور ضلع پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد حالیہ عرصے میں طالبان کے کنٹرول میں جانے والے اضلاع کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
صوبہ زابل کے ایک سیکیورٹی عہدے دار نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ سرکاری فورسز کے پسپا ہونے کے بعد طالبان جمعے کی صبح سویرے ضلع شینکی میں داخل ہو گئے۔
طالبان ایک ایسے وقت میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے جب امریکہ اور نیٹو ممالک اس ملک سے اپنی فوجی واپس بلا رہے ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے اپنی فورسز کے مکمل انخلا کے لیے اس سال 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن طے کر رکھی ہے۔
ایک اور واقعہ میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے ایک گاڑی الٹ گئی جس سے ایک افغان ٹیلی وژن کی خاتون اینکر اور اس کی والدہ ہلاک اور بہن زخمی ہو گئی۔
جمعرات کی رات ہونے والے اس حملے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
آریانا نیوز چینل نے بتایا ہے کہ مینا خیری اس ٹی وی چینل کے لیے پچھلے تین سال سے کام کر رہی تھیں۔
افغان جرنلسٹ سیفٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کابل میں ایک بم دھماکے میں آریانا نیوز کی اینکر مینا خیری، ان کی والدہ اور دیگر افراد کی ہلاکت کی خبر پرگہرے رنج میں مبتلا ہیں ۔ انہوں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس واقعہ کی سنجیدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
آریانا نیوز کے سربراہ شریف حسن یار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مینا خیری کی ہلاکت پر انتہائی افسردہ ہیں اور ان کا ادارہ پریس کی آزادی کے لیے اپنی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور افغانستان میں آزاد پریس کے لیے اپنی جدو جہد جاری رکھے گا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر ایران کا میزائل حملہ
07/July/2026 👁️ 366 بار دیکھا گیا
بھارت میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر فرد جرم عائد
07/July/2026 👁️ 100 بار دیکھا گیا
لبنان میں گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملہ، چار افراد ہلاک
07/July/2026 👁️ 308 بار دیکھا گیا
افغان سرزمین سے دہشت گردی برداشت نہیں، 'غضبِ حق' جاری رہیگا، کور کمانڈرز کانفرنس
07/July/2026 👁️ 152 بار دیکھا گیا
حماس نے 20 سال بعد غزہ کی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی، امریکی منصوبے پر عملدرآمد شروع
07/July/2026 👁️ 235 بار دیکھا گیا
ایران: علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہ ہوئے
06/July/2026 👁️ 767 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8901 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4727 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3524 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2520 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2272 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1963 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C