عمران خان اور انکی اہلیہ عدلیہ، فوج کیخلاف بیانات دے سکتے ہیں اور نہ میڈیا انھیں رپورٹ کر سکتا ہے، عدالت
👁️ 157 بار دیکھا گیا
عمران خان اور انکی اہلیہ عدلیہ، فوج کیخلاف بیانات دے سکتے ہیں اور نہ میڈیا انھیں رپورٹ کر سکتا ہے، عدالت
اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مقدمے کی سماعت کے دوران ریاستی اداروں اور ان کے حکام کے خلاف بیان دینے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے دوران ٹرائل کمرہ عدالت میں ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف اشارتاً بات کرنے سے بھی روک دیا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف بیان بازی سے روکتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میڈیا سیاسی اشتعال انگیز بیانیے جو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کو ’ٹارگٹ‘ کرتے ہوں، وہ شائع کرنے سے گریز کرے۔
احتساب عدالت نے اپنے حکم میں مزید کیا کہا؟
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے فئیر ٹرائل سے متعلق درخواست پر حکم جاری کیا جس کے مطابق الزام ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ریاستی اداروں کی قابل عزت شخصیت کے خلاف سیاسی، اشتعال انگیز، متعصبانہ بیانات دیے۔
اس کے علاوہ عدلیہ، فوج اور آرمی چیف کے حوالے سے بیانات عدالتی ڈیکورم میں خلل ڈالنے کے مترادف ہیں۔
ایسے بیانات انصاف کی فراہمی کے عمل میں بھی رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورٹ ڈیکورم اور فئیر ٹرائل کے تقاضوں کا خیال رکھنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
اس درخواست پر عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ جیل حکام جیل میں عدالت کو عید سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے حوالے سے اشارے سے بھی ملزمان سیاسی ، اشتعال انگیز، متعصبانہ بیانات نہیں دیں گے۔
اس عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ میڈیا اپنی رپورٹنگ کو عدالتی ’پروسیڈنگ‘ کی حد تک محدود رکھے گا اور ٹرائل کی عدالتی کارروائی کے درمیان دیے جانے والے ملزمان کے بیانات میڈیا رپورٹ نہیں کرے گا۔
اس عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن، ملزمان اور ان کے وکلا دوران سماعت اشتعال انگیز، سیاسی، متعصبانہ بیان نہیں دیں گے، جو کورٹ ڈیکورم مجروح کریں۔
ممبرز اور دوسرے وکلا مشیر جو کورٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ بھی ایسی بیان بازی نہیں کریں گے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ آرڈر پیمرا گائیڈ لائن کے ساتھ مشروط ہے، جس کے تحت زیر التوا کیسز پر بات کرنا ممنوع ہے۔
’پیمرا کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق ملزم کا سیاسی بیان لیگل رپورٹنگ میں نہیں آتا ہے۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بنوں : ڈومیل میں سیکیورٹی آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک، 4 آئی ای ڈیز ناکارہ
04/September/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
ایرانی حکومت کا خاتمہ اسرائیل کا اہم ہدف، نظام کمزور ہوچکا ہے، جلد گرا سکتے ہیں: نیتن یاہو
04/September/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
کوئٹہ کینٹ میں پولیس اہلکاروں کے داخلے پر مبینہ پابندی ، کینٹ پاس طلب
03/September/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، اسلحہ برآمد
03/September/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
اپر اورکزئی : نامعلوم افراد کی فائرنگ جے یو آئی رہنما ہلاک
03/September/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
یمن: تعز میں شدید لڑائی، حوثی باغیوں کی کئی محاذوں پر پیش قدمی، حکومتی فورسز کا جوابی حملہ
03/September/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26274 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15522 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11802 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9099 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7388 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5064 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C