11/February/2026

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کا نیا اقدام، یورپی یونین اور مسلم ممالک کی مذمت

👁️ 203 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کا نیا اقدام، یورپی یونین اور مسلم ممالک کی مذمت

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کا نیا اقدام، یورپی یونین اور مسلم ممالک کی مذمت

برسلز (ڈیلی اردو/اے ایف پی) یورپی یونین اور آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے پیر کے روز اسرائیل کے ان نئے اقدامات کی سخت مذمت کی ہے، جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول مزید سخت کرنا اور یہودی بستیوں کے قیام کی راہ ہموار کرنا بتایا جا رہا ہے۔

 

یہ اقدامات اتوار کو اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹرچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی منظوری سے سامنے آئے۔ ان میں یہودی اسرائیلیوں کو مغربی کنارے میں زمین خریدنے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔

 

یورپی یونین کے ترجمان انور الانونی نے صحافیوں کو بتایا،“یورپی یونین اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے حالیہ فیصلوں کی مذمت کرتی ہے، جن کے تحت مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول کو وسعت دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام ایک بار پھر غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔”

 

دوسری جانب سعودی عرب کے جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے "غیر قانونی اسرائیلی فیصلوں اور اقدامات" کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، جو ان کے بقول مقبوضہ علاقوں پر غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کے مترادف ہیں۔

 

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات "یہودی بستیوں کے قیام کو مضبوط بنانے، مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نیا قانونی و انتظامی ڈھانچہ نافذ کرنے اور اس طرح غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کرنے" کی جانب قدم ہیں۔

 

ان اقدامات میں الخلیل سمیت بعض فلسطینی شہروں کے حصوں میں تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام بلدیات سے لے کر اسرائیلی حکام کو منتقل کرنا بھی شامل ہے۔

اسرائیلی وزیر خزانہ اسموٹرچ نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد "ارضِ اسرائیل کے تمام حصوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا اور فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنا" ہے۔

 

فلسطینی اتھارٹی کی صدارت نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد "مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی کوششوں کو مزید گہرا کرنا" ہے۔

 

یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے متوقع دورۂ امریکہ سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ امریکہ ماضی میں مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

 

بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دی جانے والی مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں اس وقت پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد ہیں، جبکہ اسی علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً دو لاکھ اسرائیلی مشرقی یروشلم میں آباد ہیں، جسے اقوام متحدہ فلسطینی علاقوں کا حصہ قرار دیتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C