11/September/2025

قطر پر حملہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے امریکہ نے پاکستان میں بن لادن کو مارا، نیتن یاہو

👁️ 304 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
قطر پر حملہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے امریکہ نے پاکستان میں بن لادن کو مارا، نیتن یاہو

قطر پر حملہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے امریکہ نے پاکستان میں بن لادن کو مارا، نیتن یاہو

دوحہ/یروشلم (ڈیلی اردو) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کیے گئے حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کا موازنہ امریکہ کی اس کارروائی سے کیا ہے جس میں 2011 میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کیا گیا تھا۔

 

نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے دنیا کے کسی بھی حصے میں کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’قطر سمیت جو ممالک دہشتگردوں کو پناہ دیں گے، وہ جان لیں کہ اسرائیل اپنی سرحدوں سے باہر بھی کارروائی کرے گا۔‘‘

 

وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل پر 7 اکتوبر کا حملہ ’’ہمارا نائن الیون‘‘ تھا اور اسرائیل بھی امریکہ کی طرح اپنے دشمنوں کا پیچھا کرے گا۔ ’’ہم نے وہی کیا جو امریکہ نے کیا تھا، امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا اور پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ختم کیا۔‘‘

 

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز دوحہ میں ایک فضائی کارروائی میں حماس کے سینیئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ فوج کے مطابق ان افراد پر الزام تھا کہ وہ ’’7 اکتوبر کے حملوں کے براہِ راست ذمہ دار‘‘ تھے۔ تاہم حماس نے کہا کہ دوحہ میں اس کے مذاکراتی وفد کو نشانہ بنایا گیا لیکن وہ محفوظ رہا، جبکہ حملے میں ایک قطری سیکیورٹی اہلکار سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے۔

 

قطر کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حملے اور نیتن یاہو کے بیان کی سخت مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’اسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ موقف بزدلانہ حملے کو جواز فراہم کرنے اور مستقبل میں ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔‘‘

 

قطر نے واضح کیا کہ حماس کے دفتر کی میزبانی اس کی ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی درخواست پر قائم کیا گیا تھا۔ وزارتِ خارجہ نے کہا: ’’القائدہ کا کوئی مذاکراتی وفد نہیں تھا جس کے ساتھ امریکہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات کرتا۔ نیتن یاہو کا موازنہ حقیقت کے منافی اور شرمناک ہے۔‘‘

 

مزید کہا گیا کہ قطر اپنی خودمختاری اور سرزمین کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور خطے میں امن کے لیے ایک غیر جانبدار شراکت دار کے طور پر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گا۔

 

نیتن یاہو کی جانب سے اپنے بیان میں پاکستان کا ذکر کرنے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے۔ صارفین نے اس بات پر تنقید کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے دو بار پاکستان کا حوالہ دے کر قطر پر حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔

 

ایک صارف نے لکھا: ’’پاکستان قطر نہیں اور اسرائیل امریکہ نہیں۔‘‘ دوسرے صارف نے کہا: ’’نائن الیون کو اپنے بارے میں بنا لینا اور پھر کسی دوسرے ملک پر دہشتگردانہ حملے کا جواز دینا درست نہیں۔‘‘

 

یاد رہے کہ امریکی فورسز نے دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ نے اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ نیتن یاہو نے اسی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے قطر پر کیے گئے اسرائیلی حملے کا جواز پیش کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C