وادیٔ تیراہ بمباری: دھرنا ختم، متاثرہ خاندانوں کیلئے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان
👁️ 284 بار دیکھا گیا
وادیٔ تیراہ بمباری: دھرنا ختم، متاثرہ خاندانوں کیلئے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان
پشاور (نمائندگان ڈیلی اردو) شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری نے شاڈالہ اکاخیل گاؤں کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ اس فضائی کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 26 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی مکانات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے، جبکہ صبح فجر کے وقت لوگوں نے اعلان کیا کہ لاشیں گھروں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
مکانات سے اجتماعی لاشوں کی برآمدگی
مقامی سماجی کارکن محمد اسحاق نے بتایا کہ ایک ہی گھر سے 19 لاشیں نکالی گئیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ دوسرے گھر سے مزید دو لاشیں اور تیسرے گھر سے پانچ لاشیں برآمد ہوئیں۔ علاقے میں غم و غصہ اس حد تک بڑھ گیا کہ متاثرہ خاندانوں نے لاشوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا شروع کر دیا۔
دھرنا، مذاکرات اور حکومتی ردعمل
سانحے کے بعد تین روز تک ضلع خیبر میں دھرنا جاری رہا، جہاں مظاہرین عام شہریوں کی ہلاکتوں پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، آئی جی ایف سی اور دیگر اعلیٰ حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے باڑہ میں قبائلی عمائدین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ: “تیراہ کا سانحہ انتہائی افسوسناک ہے، عام شہریوں کی ہلاکت ناقابل قبول ہے۔”
انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فی کس ایک، ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا اور شہری ہلاکتوں کو دہشت گردی قرار دینے کی شدید مذمت کی۔
عسکری حکام کی شمولیت اور معافی
سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی نارتھ شاہ کس فورٹ میں ایف سی یونٹ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شریک ہوئے، مگر عوامی توقعات کے برعکس وہ براہِ راست مظاہرین کے پاس نہ گئے۔ اس پر عوامی حلقوں میں یہ تاثر ابھرا کہ اہم سوالات اور مطالبات ایک بار پھر پس منظر میں چلے گئے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی جی ایف سی نارتھ نے واقعے پر باقاعدہ معافی مانگی اور اعلان کیا کہ دو دن میں کور کمانڈر پشاور کے ساتھ وادی تیراہ میں جاری ملٹری آپریشن پر ایک اہم جرگہ منعقد ہوگا۔ تجویز یہ دی گئی کہ قبائلی نمائندوں کا ایک جرگہ تشکیل دیا جائے جو کور کمانڈر ہاؤس میں براہِ راست اعلیٰ عسکری حکام سے بات کرے۔ تاہم باڑہ سیاسی اتحاد نے اس تجویز پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا اور کہا کہ آئندہ کا لائحہ عمل احتجاجی پنڈال میں طے کیا جائے گا۔
صوبائی حکومت کا مؤقف
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پشاور ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ “فوجی کارروائیاں آئین کے تحت ان کا حق ہیں، صوبائی حکومت انہیں روک نہیں سکتی۔ مگر ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کارروائیوں میں بار بار عام شہری متاثر ہو رہے ہیں اور یہ "کولیٹرل ڈیمیج" ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو پشاور میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں بھی وہ اس مسئلے پر عوام کے سامنے بات کریں گے۔
انسانی حقوق کمیشن کی تشویش
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے وادی تیراہ واقعے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ: “ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بار بار ناکام رہی ہے۔ اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔”
وادی تیراہ سانحہ: امداد اور ذمہ داری کے سوالات
سنیئر صحافی مجید نظامی نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے جولائی میں وادی تیراہ میں مظاہرین پر ہونے والی فائرنگ کے متاثرین میں 9 کروڑ 50 لاکھ روپے تقسیم کیے تھے۔ اس وقت بھی مارٹر گولہ گرنے سے ایک معصوم بچی کی ہلاکت پر احتجاج کیا جا رہا تھا۔
نظامی کے مطابق اس احتجاج کے بعد ہونے والے جرگے میں بریگیڈیئر قاسم شریک تھے، جبکہ حالیہ امدادی رقم کی تقریب میں بریگیڈیئر آصف تشریف لائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج ایک بار پھر وادی تیراہ اور اس کے متاثرین زیر بحث ہیں، اس بار دیکھنا یہ ہے کہ آیا صرف تسلی دے کر امدادی رقوم تقسیم کی جائیں گی یا واقعی ذمہ داروں کا تعین اور شفاف تحقیقات بھی عمل میں لائی جائیں گی۔
پس منظر اور حالیہ تناظر
وادی تیراہ اور خیبر پختونخوا کے دیگر قبائلی علاقوں میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جولائی میں تیراہ ہی میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی ہلاکت ہوئی تھی، جس کے خلاف احتجاج کے دوران فائرنگ سے مزید پانچ افراد مارے گئے۔ اسی ماہ باجوڑ میں عسکری کارروائی کے دوران تین شہری ہلاک ہوئے تھے۔
یہ واقعات نہ صرف عوامی غم و غصے میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ فوج اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے فقدان کو بھی واضح کر رہے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
سوات: کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش حملہ، 6 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد ہلاک، 30 زخمی
03/August/2026 👁️ 18 بار دیکھا گیا
ہنگو میں انٹیلیجنس آپریشن، ٹی ٹی پی کا مطلوب کمانڈر امیر معاویہ ہلاک
03/August/2026 👁️ 20 بار دیکھا گیا
پنجاب بھر میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 54 دہشت گرد گرفتار
03/August/2026 👁️ 21 بار دیکھا گیا
پشاور میں پولیس موبائل پر بم حملہ، دو اہلکار زخمی
02/August/2026 👁️ 21 بار دیکھا گیا
شمالی وزیرستان میں جھڑپ، میجر ہلاک، جوابی کارروائی میں 5 دہشت گرد مارے گئے: آئی ایس پی آر
02/August/2026 👁️ 196 بار دیکھا گیا
حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک غزہ سے فوجی انخلا ممکن نہیں، اسرائیل کا مؤقف
02/August/2026 👁️ 221 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9005 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4885 بار دیکھا گیاٹرمپ کا ایران پر ’انتہائی سخت‘ حملوں کا حکم، تہران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا انتباہ
01/August/2026 👁️ 4249 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3752 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3625 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2613 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C