20/October/2025

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو قتل کی دھمکیاں دینے والا انتہا پسند گرفتار

👁️ 521 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو قتل کی دھمکیاں دینے والا انتہا پسند گرفتار

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو قتل کی دھمکیاں دینے والا انتہا پسند گرفتار

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان میں پولیس نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو قتل کی دھمکیاں دینے والے انتہا پسند محمد زعفران کو ضلع استور کے نواحی گاؤں ناصر آباد سے گرفتار کر لیا۔

 

ذرائع کے مطابق ملزم کا تعلق انتہا پسند تنظیم تحریک لبیک پاکستان سے ہے اور اسے حساس اداروں نے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ حساس اداروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز کے خلاف ممکنہ قاتلانہ حملے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر ان کی سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق مریم نواز کی سیکورٹی پر مامور پولیس اور حفاظتی اہلکاروں کی جانچ پڑتال بھی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کی حفاظت کے لیے فل پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ 

 

آج مریم نواز نے بلٹ پروف شیشے کے پیچھے خطاب کیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہبی انتہا پسند گروہ کس حد تک خطرناک ہو سکتے ہیں اور ان میں دہشت گردی کی صلاحیت کتنی زیادہ ہے۔

 

 ملزم کی دھمکی آمیز پوسٹ

 

ذرائع کے مطابق محمد زعفران نے سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا:“یا الہی وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی سکیورٹی میں کوئی ممتاز قادری پیدا کر، سب بولو آمین ثمہ آمین یارب العالمین”

 

یہ ٹویٹ ظاہر کرتا ہے کہ ملزم نے قتل کی منصوبہ بندی کے لیے مذہبی شدت پسندی کی بنیاد پر تشدد کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی۔

 

ایکس (سابق ٹوئٹر) نے ملزم کا اکاؤنٹ معطل کر دیا۔

 

یاد دہانی: ممتاز قادری کیس

 

یہ واقعہ ممتاز قادری کے قتل کیس کو بھی ذہن میں لاتا ہے۔ ممتاز قادری، جو پنجاب کی ایلیٹ فورس کا اہلکار اور گورنر سلمان تاثیر کے سرکاری محافظ تھے، نے 4 جنوری 2011ء کو اسلام آباد میں گورنر کو 28 گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

 

پنجاب کے اُس وقت کے گورنر سلمان تاثیر نے 2010 میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے ایک کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد اُس خاتون سے جیل میں ملاقات کی تھی اور توہین مذہب سے متعلق موجودہ قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔

 

پولیس نے ممتاز قادری کو موقع پر ہی گرفتار کیا تھا اور راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یکم اکتوبر 2011 کو اسے دو بار سزائے موت اور جرمانے کا حکم سنایا تھا۔ 

 

ممتاز قادری نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت دی گئی سزائے موت کو کالعدم کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، لیکن فوجداری قانون کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت برقرار رکھی گئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ اور صدر ممنون حسین نے بھی اس کی معافی کی اپیل مسترد کر دی۔ 

 

بالآخر 29 فروری 2016 کو ممتاز قادری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C