22/January/2026

پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی اشرافیہ کا ملکی معیشت پر قبضہ

👁️ 269 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی اشرافیہ کا ملکی معیشت پر قبضہ

پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی اشرافیہ کا ملکی معیشت پر قبضہ

برلن (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) جب 1979ء میں اسلامی انقلاب نے ایران کے شاہ کو تخت سے محروم کیا تو ایک امریکی ڈالر کی قدر صرف 70 ایرانی ریال کے برابر تھی۔ سن 2026ء کے ابتدا تک یہ شرح حیران کن طور پر ایک ڈالر کے بدلے 14 لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ چکی ہے۔

 

ایران کی قومی کرنسی کی یہ تباہی ملک کے معاشی زوال کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے اور اس کے اثرات براہ راست ایرانی عوام کو متاثر کر رہے ہیں۔ شاہ کے دور میں ریال آج کے مقابلے میں تقریباً 20 ہزار گنا مضبوط تھا۔

 

ایرانی عوام کا موجودہ عدم اطمینان اب روایتی مخالف حلقوں سے کہیں آگے پھیل چکا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں وہ گروہ بھی احتجاج میں شامل ہوئے، جو 1979ء کے انقلاب کے بعد شیعہ مسلم حکومت کے حامی تھے۔

 

دسمبر 2025ء کے آخر میں تہران کے بااثر تاجر معاشی بحران کی گہرائی، قریب 50 فیصد کی تیزی سے بڑھتی مہنگائی اور ریال کی قدر میں ڈرامائی کمی کے خلاف عوامی طور پر احتجاج کرنے والوں میں سب سے پہلے شامل ہوئے۔

 

تہران بازار کے ایک تاجر نے، جو رازداری کی وجہ سے نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ''ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے سامان درآمد نہیں کر سکتے اور صرف پاسداران انقلاب یا ان سے منسلک لوگ ہی معیشت پر قابض ہیں۔ وہ صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچتے ہیں۔‘‘

 

جرمنی کی یونیورسٹی آف ایئرفُرٹ میں ایرانی امور کے ماہر آندریاس گولڈتھاؤ کے مطابق ایران کی ''معاشی بیماری‘‘ کو بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے مزید سنگین بنا دیا ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں حالات ''نہایت خراب‘‘ ہیں۔

 

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس لیے ایران اپنے عوام کے ساتھ سماجی معاہدے کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ توانائی کی دولت کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ روزمرہ کا معمول بن چکی ہے، جبکہ توانائی کی سبسڈیز ریاستی بجٹ کا بڑھتا حصہ کھا رہی ہیں، پٹرول کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں، جو خاندانوں اور کاروباروں پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔‘‘

 

ایرانی اشرافیہ کی ملکی معیشت پر گرفت

 

ایران کی معیشت اسلامی جمہوریہ کی سیاسی اشرافیہ سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے، بالخصوص اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) سے، جو معاشی سرگرمیوں کے وسیع شعبوں پر قابض ہے۔ آئی آر جی سی کے ساتھ ساتھ مذہبی بنیاد والے اداروں کا ایک نیٹ ورک کام کرتا ہے، جو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، تعلیم اور ادویات کے شعبے پر نمایاں اثر رکھتا ہے۔

 

یہاں تک کہ ''مہرِ نبوت‘‘ جیسا نام ملک کے سب سے بڑے تعمیراتی اور صنعتی گروپ کا ہے، جو پاسداران انقلاب کے زیرِ کنٹرول ہے۔

پاسداران انقلاب معیشت کے تقریباً ہر شعبے سے منافع کماتے ہیں۔

 

 ہوائی سفر سے، شپنگ کنٹینرز تک، برآمدات سے درآمدات تک، تیل کی پیداوار ہو، ہتھیاروں کی صنعت ہو یا خصوصی طبی کلینکس، کچھ بھی پاسداران انقلاب کی شمولیت کے بغیر کام نہیں کرتا۔ انہیں ایران کا سب سے بڑا اسمگلنگ نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے، جو چین کو پابندی زدہ تیل برآمد کرتا ہے اور ممنوعہ اشیا، جیسے شراب درآمد کرتا ہے۔

 

پاسداران انقلاب مغربی پابندیوں کا شکار ایئر لائنز، جیسے مہان ایئر کے مالک بھی ہیں اور ایران کی سب سے بڑی ٹیلی کام آپریٹر ٹی سی آئی کے غالب حصص رکھتے ہیں۔ سیکٹر کی دوسری بڑی کمپنی ایم ٹی این ایران سیل میں فوج کے ساتھ ساتھ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی افراد بھی شامل ہیں۔

 

گارڈز کی معاشی رسائی کتنی وسیع ہے، اس پر ایران کے ماہرین میں بھی بحث جاری ہے۔ آئی آر جی سی کے کارپوریٹ اثاثے اور کاروباری نیٹ ورک انتہائی غیر شفاف ہیں، جن پر کوئی معقول نگرانی نہیں ہے، حالانکہ ریاستی حکام کبھی کبھار کرپشن کے مقدمات چلاتے رہتے ہیں۔

 

ایمسٹرڈیم میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ہسٹری کے محقق کیان ولدبیگی کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی آر جی سی ایرانی معیشت پر غالب ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''لیکن جی ڈی پی میں ان کے درست حصے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ وہ ہولڈنگ کمپنیوں، شیل فرموں اور نام نہاد فلاحی بنیادوں کے پیچیدہ نیٹ ورک چلاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں کی مکمل تصویر حاصل کرنا مشکل ہے۔‘‘

 

ولدبیگی کا اندازہ ہے کہ 2010ء کی دہائی کے آخر تک فوج اور مذہبی-انقلابی اکائیوں کا مشترکہ معاشی نیٹ ورک ایران کے جی ڈی پی کا تقریباً 50 فیصد تھا، ''اس کے بعد سے ان کا اثر مزید گہرا ہوا ہے۔ آج وہ ملک کی معاشی پیداوار کے نصف سے زیادہ پر قابض ہیں۔‘‘

 

پاسداران انقلاب کے معاشی اثر و رسوخ کی جارحانہ سرگرمیاں اس وقت عیاں ہوئی، جب آئی آر جی سی نے ایران کے سب سے بڑے آن لائن کلاسفائیڈ ایڈز پلیٹ فارم 'دیوار‘ کی اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ کو روک دیا، حالانکہ کمپنی میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا۔

 

اگست 2025 میں واشنگٹن پوسٹ کو دیوار کی انتظامیہ کے ایک قریبی اہلکار نے بتایا، ''ایران میں جب بھی آپ پیسہ کماتے ہیں، اچانک کوئی تنظیم یا کوئی ادارہ سامنے آ جاتا ہے، جو آپ کے کاروبار میں مداخلت کرتا ہے۔‘‘

 

ایران کا 'زومبی نظام‘ کب تک اقتدار میں رہ سکتا ہے؟

 

واشنگٹن ڈی سی میں کارنیگی انڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے کریم سجاد پور کے مطابق عدم اطمینان کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

انہوں نے امریکی براڈکاسٹر ایم ایس ناؤ کو بتایا، '' 1979ء کا انقلاب اپنے عروج تک پہنچنے میں ایک سال لگا۔ شاہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے جنوری 1978 میں شروع ہوئے اور 12 ماہ تک جاری رہے۔ موجودہ احتجاج اس کے برعکس صرف تین ہفتے پہلے شروع ہوئے ہیں۔‘‘

 

سجاد پور ایران کے حکمرانوں کو ''ایک زومبی نظام‘‘ قرار دیتے ہیں، جس میں ''مرتی ہوئی آئیڈیالوجی، مرتی ہوئے جواز، مرتی ہوئی معیشت اور  مرتے ہوئے آمر‘‘ ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ نظام اب بھی مہلک طاقت استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ''اور یہی چیز اسے اقتدار میں رکھے ہوئے ہے۔‘‘

 

سجاد پور کا کہنا ہے کہ ایسا جبر صرف حساب کتاب کو مؤخر کر سکتا ہے، روک نہیں سکتا، ''ایران ایک ایسی قوم ہے، جو تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں سے، جو بھی نکلے، 86 سالہ سپریم لیڈر جلد ہی منظر سے ہٹ جائیں گے اور مجھے نہیں یقین کہ معاشرے میں یا خود نظام کے اندر کوئی بھی موجودہ صورتحال کے جاری رہنے کی توقع رکھتا ہے۔‘‘

 

کیان ولدبیگی کے لیے فیصلہ کن عنصر سڑکوں پر احتجاج نہیں بلکہ امریکی پالیسی ہے لیکن یہ فوجی مداخلت کی شکل میں نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کا 50 ڈالر فی بیرل سے نیچے گرنا بھی ضروری نہیں کیونکہ ایران پہلے بھی طویل عرصے تک کم قیمتوں کا سامنا کر چکا ہے اور توانائی کی عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ میں ڈھل چکا ہے۔

 

ان کے مطابق اصل اہمیت تیل کی قیمت کی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کے باوجود تیل برآمد کر سکتا ہے یا نہیں، ''کم قیمتیں تکلیف دہ ہیں مگر قابلِ برداشت ہیں۔ تاہم تیل کی برآمدات کا مکمل بند ہونا ریاستی آمدنی اور مالی استحکام کے لیے کہیں زیادہ نقصان دہ ہو گا۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C