پاکستان میں خوف کی فضا ہے اور صحافت مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، حامد میر
👁️ 155 بار دیکھا گیا
پاکستان میں خوف کی فضا ہے اور صحافت مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، حامد میر
اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کی فوج کے چند افسران پر تنقید کے بعد آف ایئر کیے جانے والے سینیئر صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خوف کی فضا ہے اور صحافت مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔
بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ان پر عائد پابندی کے لیے ذمہ دار نہیں لیکن وہ ایک بےبس وزیراعظم ہیں اور ان کی مدد نہیں کر سکتے۔
Imran Khan 'is not a very powerful prime minister' says banned Pakistani journalist @HamidMirPAK who also says Prime Minister Khan is 'helpless' and 'cannot help me' pic.twitter.com/KwMou3lU8M
— BBC HARDtalk (@BBCHARDtalk) August 9, 2021
حامد میر کو مئی 2021 میں صحافی اور یوٹیوب ولاگر اسد طور پر ’نامعلوم‘ افراد کے تشدد کے بعد اُن کی حمایت میں منعقد ہونے والے ایک مظاہرے میں ان کے متنازع خطاب کے بعد سے پابندی کا سامنا ہے۔
اس خطاب میں حامد میر نے فوج سے تعلق رکھنے والے کچھ افسران پر تنقید کرتے ہوئے انھیں تنبیہ کی تھی کہ آئندہ کسی صحافی پر ایسے تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ ’گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے۔‘
اس تقریر کے بعد دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جیو نیوز پر چلنے والے پروگرام کی میزبانی سے انھیں ہٹا دیا گیا تھا اور چینل کی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ انھیں ’چھٹی پر بھیجا گیا ہے۔‘ اس تقریر کے بعد مختلف شہروں میں اُن کے خلاف غداری کے مقدمات درج کرنے کی درخواستیں بھی دائر ہوئی تھیں۔
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران حامد میر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں سنسر شپ کی جیتی جاگتی مثال بن چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مشرف جیسے فوجی آمر نے بھی ان کے ٹی وی پر آنے پر پابندی لگائی لیکن وہ اخبار میں لکھتے رہے لیکن اب موجود دورِ حکومت میں انھیں اس کی بھی اجازت نہیں۔
’ اب عمران خان وزیر اعظم ہیں اور بدقسمتی سے میرے صرف ٹی وی پر آنے پر پابندی نہیں بلکہ میں اپنے اخبار میں کالم بھی نہیں لکھ سکتا۔ تو پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن جمہوریت نہیں ہے، اسی طرح آئین ہے اور آئین نہیں ہے۔ میں پاکستان میں سنسرشپ کی زندہ مثال ہوں۔‘
'I'm ready to face life imprisonment' says Pakistani journalist @HamidMirPAK who faces accusations of sedition and has been suspended from his TV job and newspaper column after speaking out against attacks on press freedom in the country pic.twitter.com/kXuSvozXXi
— BBC HARDtalk (@BBCHARDtalk) August 9, 2021
میزبان سٹیفن سیکر کے اس سوال پر کہ کیا وہ ان پر عائد پابندی اور ان کے خلاف مقدمات کی درخواستوں کے لیے وزیراعظم عمران خان کو ذمہ دار سمجھتے ہیں حامد میر کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد ان پر تنقید کی تو وہ اس سے خوش نہیں تھے لیکن ’میرے خیال میں عمران خان میرے خلاف پابندی کے لیے براہ راست ذمہ دار نہیں ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ وہ مجھے آف ایئر کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ماضی کے وزرائے اعظم کی طرح طاقتور وزیر اعظم نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے عمران خان بے بس ہیں اور میری مدد نہیں کر سکتے۔‘
اس سوال پر کہ وہ صحافی اسد طور یا ماضی میں خود ان پر ہونے والے حملوں میں ملوث افراد کے بارے میں کیا اور کیسے جانتے ہیں، حامد میر کا کہنا تھا کہ ’میں نے کہا تھا کہ پاکستان میں جب بھی صحافی پر حملہ ہوتا ہے اسے انصاف نہیں ملتا۔ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ تو آپ اگر ہمیں انصاف نہیں دیں گے تو ہم ان لوگوں کے نام لینے پر مجبور ہو جائیں گے جو ہمارے خیال میں اس کے ذمہ دار ہیں۔‘
سینیئر صحافی کا کہنا تھا کہ ’جب میں کراچی میں قاتلانہ حملے میں بچا تھا، مجھے چھ گولیاں لگی تھیں جن میں سے دو اب بھی میرے جسم میں ہیں۔ میں نے ایک شخص کا نام لیا تھا، ایک خفیہ ادارے کے سربراہ۔ اس وقت کی حکومت نے تین رکنی انکوائری کمیشن قائم کیا تھا۔ میں نے اس اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کے سامنے ایک بار نہیں دو بار اپنا ریکارڈ کروایا۔ میں زخمی تھا لیکن میں کمیشن کے سامنے پیش ہوا اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ اور جب کمیشن نے اس شخص کو طلب کیا جو میرے خیال میں مجھ پر حملہ کرنے یا میرے خلاف سازش بنانے کا ذمہ دار تھا، تو اس نے انکار کر دیا اور وہ کبھی کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا اور کبھی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ یہی معاملہ اسد طور کے ساتھ پیش آیا۔ انھوں نے پولیس کو درخواست دی جس پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ ایک انٹیلیجنس ایجنسی کا نام اس ایف آئی آر میں شامل تھا۔ ہم مطالبہ کر رہے تھے کہ ہمارے ساتھی اسد طور کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
اس سوال پر کہ کیا وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان کی انٹیلیجنس سروسز اسد طور پر حملے کی ذمہ دار تھیں اور گذشتہ ایک برس کے دوران اور اس سے پہلے صحافیوں پر حملوں میں اضافے کے لیے پاکستان کی ریاست ذمہ دار ہے، حامد میر نے کہا کہ ’یہ چیزیں بار بار ریکارڈ پر لائی گئی ہیں۔ عالمی تنظیموں اور پاکستانی تنظیموں کی طرف سے، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی طرف سے کئی رپورٹیں ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ریاستی ایجنسیوں، اینٹیلیجنس ایجنسیوں پر بار بار حملے کروانے، صحافیوں کو اغوا کرنے کا الزام لگایا گیا۔‘
جب حامد میر سے یہ پوچھا گیا کہ ہارڈ ٹاک میں ہی بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ان معاملات میں نتیجے اخذ کرنے میں جلدبازی نہ کی جائے تو ان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کے اس بیان کو دو ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن نہ تو صحافیوں پر حملوں کے معاملے میں کوئی گرفتاری ہوئی اور نہ ہی حقیقت سامنے آئی۔
’دو مہینے گزر چکے ہیں۔ کوئی گرفتاری ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی بات سامنے آئی۔ انصاف کہاں ہے۔ یہی تو ایشو ہے۔ یہی تو سوال ہے۔ ریاست پاکستان ہمیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی تو مسئلہ ہے۔‘
سٹیفن سیکر کے اس سوال پر کہ ان پر لگنے والے بغاوت کے الزامات ثابت ہونے پر انھیں عمر قید بھی ہو سکتی ہے تو وہ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں حامد میر کا کہنا تھا کہ ’میں عمر قید کی سزا کے لیے تیار ہوں۔ کیونکہ اگر وہ مجھے سزا دیتے ہیں تو پوری دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ ویسے دنیا کو پہلے ہی معلوم ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے کیونکہ میں پاکستان میں سنسرشپ کی زندہ مثال ہوں۔
’سب کو ان لوگوں کے نام معلوم ہیں، جن کا میں نے ذکر نہیں کیا۔ سب کو معلوم ہے کہ مجھ پر پابندی کا کون ذمہ دار ہے۔ عام پاکستانی بہت سمجھدار ہیں۔ وہ بہت ذہین ہیں۔ انھیں ہر بات کا علم ہے کہ کیا ہو رہا ہے لیکن بات یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں ہے۔ ہم انصاف چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم ہو اور اگر صحافی سوال کرتا ہے تو اسے خاموش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔‘
حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ وہ اپنے بیانات سے پیچھے ہٹے ہیں بلکہ ان کے وضاحتی بیان کا مقصد قانونی پیچیدگیوں سے نمٹنا تھا تاہم انھوں نے کہا کہ انھوں نے جو تقریر کی اس کے بعد ’کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ میں پورے ادارے پر الزام لگا رہا ہوں۔ تو میں نے اپنی پوزیشن کی وضاحت کی تھی میں پورے ادارے کو الزام نہیں دے رہا بلکہ میں صرف چند افراد کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو میڈیا کی آواز کو بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
حامد میر کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں اپنے ادارے جیو اور جنگ کے رویے سے مایوسی ہوئی لیکن وہ ان کی صورتحال سمجھ سکتے ہیں۔ ’وہ پہلے ہی نشانے پر ہیں۔ تو میرے ایمپلائر کے سر پر تو پہلے ہی بندوق رکھی ہوئی ہے۔ تو جب انھیں حامد میر پر پابندی لگانے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے مجھ پر پابندی لگا دی۔ میں ان کی پرابلم سمجھ سکتا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں خوف کی فضا ہے اور نوجوان صحافی بہت مایوس ہیں جبکہ حکومت کے اقدامات اس فضا کو مزید کثیف بنا رہے ہیں۔
’پاکستان میں خوف کی فضا ہے کیونکہ پاکستانی صحافی سمجھتے ہیں کہ صحافت اس ملک میں بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ عمران خان کی حکومت اب کچھ میڈیا مخالف قوانین متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔
’وہی حکومت جو آپ کے خیال میں ہم پر سنسرشپ نافذ کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے ایک میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نامی قانون پر کام کر رہی ہے جس کے تحت میڈیا ٹریبیونل بنائیں جائیں گے جن میں سخت سوال کرنے والے اور حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر کیس چلیں گے، دسیوں لاکھوں میں جرمانے ہوں گے اور دو یا تین سال تک کی قید بھی ہو سکے گی۔
’ایک طرف عمران خان کی حکومت جرنلسٹ پروٹیکشن بل لا کر اچھا کام کر رہی ہے تو دوسری طرف وہ میڈیا ڈویلپمنٹ بل پر کام کر رہے ہیں جو جرنلسٹ پروٹیکشن بل کی مکمل نفی ہے۔ تو یہ تضاد ہے۔ جہاں تک وہ جرنلسٹ پروٹیشکن بل پر کام کر رہے ہیں ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں اور کریں گے، لیکن اگر وہ ہم پر میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کے ذریعے سنسرشپ نافذ کریں گے اور تمام اختیارات وزارت اطلاعات کے پاس ہوں گے اور جناب فواد چوہدری پاکستان میں صحافیوں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے تو ہم ان پر تنقید کریں گے۔‘
'All those people who are trying to snatch media freedom from us are enemies of Pakistan' says banned Pakistani journalist @HamidMirPAK pic.twitter.com/PKNluDrpJh
— BBC HARDtalk (@BBCHARDtalk) August 9, 2021
حامد میر کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے لیکن وہ ملک نہیں چھوڑیں گے۔
’میں کافی عرصے سے اپنی ذاتی سکیورٹی خطرے میں محسوس کرتا ہوں۔ میں نے اپنی فیملی سے پاکستان چھوڑنے کے لیے کہا تھا اور وہ چلے گئے۔ میری بیٹی اور بیوی پہلے ہی پاکستان چھوڑ چکی ہیں۔ مجھے بھی کئی لوگوں نے پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دیا تھی لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ میں پاکستان سے نہیں جاؤں گا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے اپنی زندگی پاکستان میں فوجی آمروں کے سائے میں گزاری اور انھیں حالات میں کام کیا ہے اور اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ’قانون کی بالادستی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔ اسی لیے ہم پاکستان میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح ایک ڈیموکریٹ تھے اور میں ان کا ایک پیروکار ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ تمام لوگ جو ہم سے میڈیا کی آزادی چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان کے دشمن ہیں، محمد علی جناح کے دشمن ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 294 بار دیکھا گیا
ایران نواز گروہوں سے عالمی خطرہ، امریکہ نے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا
20/July/2026 👁️ 148 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک، 8 مشتبہ افراد گرفتار
20/July/2026 👁️ 192 بار دیکھا گیا
پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ، کرم سیکٹر میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال
20/July/2026 👁️ 164 بار دیکھا گیا
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ
19/July/2026 👁️ 266 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک
19/July/2026 👁️ 202 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8961 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4811 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3571 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3407 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2318 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C