07/October/2025

پاکستان میں دہشت گردی کی تباہ کن لہر: 3 ماہ میں 901 افراد ہلاک، 599 زخمی

👁️ 346 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میں دہشت گردی کی تباہ کن لہر: 3 ماہ میں 901 افراد ہلاک، 599 زخمی

پاکستان میں دہشت گردی کی تباہ کن لہر: 3 ماہ میں 901 افراد ہلاک، 599 زخمی

اسلام آباد (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستان میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی کے باعث 2025 کے دوران پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران دہشت گردی کے حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز دونوں میں شدت دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی شرح میں واضح اضافہ ہوا۔

 

رپورٹ کے مطابق پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں اموات میں 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران ملک بھر میں 329 پرتشدد واقعات پیش آئے جن میں 901 افراد ہلاک اور 599 زخمی ہوئے۔ ان واقعات میں دہشت گرد حملے، خودکش دھماکے، اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیاں شامل تھیں۔

 

سی آر ایس ایس نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2025 گزشتہ دہائی کے سب سے خونریز سالوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال کی تین سہ ماہیوں میں اب تک 2414 اموات ریکارڈ ہو چکی ہیں، جو 2024 کے پورے سال میں ہونے والی 2546 اموات کے تقریباً برابر ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق جنوری سے ستمبر 2024 کے دوران 1527 افراد تشدد کا نشانہ بنے تھے، جب کہ اسی عرصے کے دوران 2025 میں 2414 اموات ہوئیں، جو کہ 58 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

 

سی آر ایس ایس نے نشاندہی کی کہ اگرچہ مجموعی اموات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ان کا ماخذ بدل گیا ہے۔ 2024 میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں 505 ہلاکتیں (کل کا 33 فیصد) ہوئیں جبکہ دہشت گردانہ حملوں میں 1022 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

 

اس کے برعکس 2025 میں سیکیورٹی آپریشنز سے 1265 ہلاکتیں ہوئیں، جو کہ کل اموات کا نصف سے زائد (تقریباً 52 فیصد) ہیں۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاستی ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوچکا ہے اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد گروہوں کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں یہ اضافہ افغانستان سے امریکی انخلا (2021) کے بعد شدت اختیار کرگیا۔ وفاقی حکومت نے بارہا الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان حکام پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں، بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ اور سہولت فراہم کر رہے ہیں، تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

 

اقوام متحدہ نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے لیے ’سازگار ماحول‘ موجود ہے جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

 

دوسری جانب ستمبر میں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک سرکاری اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، انکشاف کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات شمالی و مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے موجودہ پالیسیوں میں مؤثر تبدیلیاں نہ کیں تو 2025 پاکستان کے لیے گزشتہ ایک دہائی کا سب سے ہلاکت خیز سال ثابت ہوسکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C