31/May/2026

پاکستان، امریکہ کا سکیورٹی امور اور انسداد دہشتگردی تعاون بڑھانے پر اتفاق

👁️ 238 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان، امریکہ کا سکیورٹی امور اور انسداد دہشتگردی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان، امریکہ کا سکیورٹی امور اور انسداد دہشتگردی تعاون بڑھانے پر اتفاق

واشنگٹن/اسلام آباد (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں)  پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ان کے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعاون بڑھانے اور انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی کے امور سے متعلق پارٹنر شپ کو مزید تقویت دینے پر اتفاق ہوا۔

 

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز محکمہ خارجہ میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار  کے ساتھ یہ ملاقات روبیو کے پاکستان کے دیرینہ حریف ملک بھارت کے دورے کے چند دن بعد ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں حکام نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی۔

 

دوسری جانب، ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے جمعہ کو ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ (معاہدے کی) تحریر کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے اور ممکنہ مفاہمت کی یادداشت کے الفاظ میں ’’حالیہ دنوں میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔‘‘

 

پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔ تاہم خبر رساں ادارے 'روئٹرز‘ نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک ابتدائی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں گی۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس معاہدے کی منظوری نہیں دی ہے۔

 

اگرچہ اسحاق ڈار نائب وزیر اعظم بھی ہیں، لیکن ایران تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی قیادت آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں۔ اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 

صدر ٹرمپ مارچ کے وسط سے بارہا کہہ چکے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ قریب ہے، اگرچہ واشنگٹن اور تہران نے عوامی سطح پر کسی مشترکہ  نکتے پر پہنچنے کے حوالے سے بہت کم پیش رفت دکھائی ہے۔

 

فوری طور پر حل طلب  مسئلہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بحالی ہے، جہاں سے تنازع سے قبل عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔

 

’میرین ٹریفک‘ کے ڈیٹا کے مطابق (جو صرف ان جہازوں کی نگرانی کرتا ہے جو اپنا مقام نشر کر رہے ہوں)، جمعہ کو دوپہر 12 بجے تک گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کسی تیل بردار جہاز نے آبنائے ہرمز عبور نہیں کیا، البتہ چین کے جھنڈے والا ایک گاڑیاں لے جانے والا بحری جہاز وہاں سے گزرا۔ اس سے قبل رواں ہفتے کئی بڑے ٹینکرز اور مائع قدرتی گیس (LNG) کے جہاز وہاں سے روانہ ہوئے تھے۔

 

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 بحری جہاز آبنائے سے گزرے ہیں، ساتھ ہی اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز وہاں سے نہیں گزرے گا۔

 

میں ہونے والے امن مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا، تاہم خبر رساں ادارے 'روئٹرز‘ نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک ابتدائی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں گی۔

 

تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس معاہدے کی منظوری نہیں دی ہے، اور ایران کی 'تسنیم‘ نیوز ایجنسی نے جمعہ کو اس بات کا اعادہ کیا کہ معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C