11/October/2025

پنجاب: چنیوٹ میں احمدی عبادت گاہ ربوہ پر حملہ، چار افراد زخمی، ایک حملہ آور ہلاک

👁️ 407 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پنجاب: چنیوٹ میں احمدی عبادت گاہ ربوہ پر حملہ، چار افراد زخمی، ایک حملہ آور ہلاک

پنجاب: چنیوٹ میں احمدی عبادت گاہ ربوہ پر حملہ، چار افراد زخمی، ایک حملہ آور ہلاک

چنیوٹ (نمائندہ ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں احمدی عبادت گاہ ربوہ پر مسلح حملے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

 

جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق ربوہ کے گول بازار میں واقع احمدی عبادت گاہ "بیت المہدی" پر حملہ اُس وقت کیا گیا جب عبادت گزار نماز میں مصروف تھے۔ حملہ آوروں نے عبادت گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے حملہ ناکام بنا دیا۔ اس تبادلۂ فائرنگ میں چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

 

چنیوٹ کے تھانہ چناب نگر کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ چار افراد ایک گاڑی میں سوار ہو کر عبادت گاہ پہنچے، جن میں سے ایک مسلح شخص گاڑی سے اُترا اور پستول نکال کر فائرنگ شروع کر دی۔ احمدی عبادت گاہ کے باہر موجود سکیورٹی کے رضا کاروں نے فوراً جواب دیا، جس کے نتیجے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ حملہ آور کے دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

 

ڈی پی او چنیوٹ عبداللہ احمد نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ عبادت گاہ پر حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے اور حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور گول بازار و اس کے اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

 

ڈیلی اردو کے مطابق، حملہ آور کی شناخت صہیب بن ضیغم ولد حفظ الرحمن ضیغم کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع راجن پور کے علاقے جام پور کا رہائشی تھا۔  جبکہ شناختی کارڈ پر پتہ "مکان نمبر 23، سٹریٹ نمبر 2، ایل کالونی، گھوڑے شاہ روڈ، لاہور" درج تھا۔

 

احمدی برادری پر پرامن عبادت کے دوران حملوں کا دیرینہ سلسلہ

 

خیال رہے کہ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا نہیں ہے۔ گذشتہ برس حکومت کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی آر ایچ) نے اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کا عنوان تھا ’مانیٹرنگ دی پلائیٹ آف دی احمدیہ کمیونٹی۔‘

 

رپورٹ کے مطابق سنہ 1984 سے 2024 تک احمدی برادری کے 280 افراد صرف مذہبی عقیدے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 415 دیگر افراد اپنے عقیدے کی وجہ سے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمدی برادری اگر زندہ ہوتے ہوئے محفوظ نہیں تو مرنے کے بعد بھی اُنہیں وہ حفاظت نہیں ملتی جو کہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

 

این سی آر ایچ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنوری 2023 سے ستمبر 2023 تک کے نو ماہ کے دوران 39 معاملات میں تدفین کے بعد احمدی برادری کے افراد کی لاشوں کو قبروں سے نکال لیا گیا، 99 معاملات میں قبروں کی بے حرمتی کی گئی اور 96 کیسز میں احمدی برادری کے افراد کو مشترکہ قبرستان میں تدفین کی اجازت نہیں دی گئی۔

 

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ احمدی برادری کو مذہبی عبادت اور تدفین کے دوران بھی مسلسل خطرات اور دھچکے پہنچتے رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C