21/November/2025

ڈیرہ اسماعیل خان: طالبان کے بم دھماکے میں پولیس بکتر بند گاڑی تباہ، 2 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

👁️ 281 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ڈیرہ اسماعیل خان: طالبان کے بم دھماکے میں پولیس بکتر بند گاڑی تباہ، 2 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

ڈیرہ اسماعیل خان: طالبان کے بم دھماکے میں پولیس بکتر بند گاڑی تباہ، 2 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے ہیں۔ 

 

ڈی پی او ڈیرہ سجاد احمد کے مطابق یہ واقعہ ہتھالہ گلوٹی روڈ پر گاؤں ملنگ کے قریب پیش آیا، جہاں دہشت گردوں نے ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے پولیس کی بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا۔

 

 

دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیر کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب ٹکواڑہ پولیس چوکی کی بکتر بند گاڑی معمول کے گشت پر تھی اور پل کے نیچے نصب دھماکہ خیز مواد کی زد میں آ گئی۔

 

اس دھماکے میں ڈرائیور محمد رمضان اور کانسٹیبل سیف الرحمن ہلاک ہوئے، جبکہ حوالدار شاہد، کانسٹیبل محبوب عالم، آصف اور کفایت زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ڈی پی او نے بتایا کہ علاقے میں سرچ آپریشن اور سیکیورٹی اقدامات جاری ہیں۔

 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سیہل آفریدی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی۔ 

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی دھماکے کی مذمت کی اور ہلاک اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہیں اور ہلاک اہلکاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

 

ڈیرہ اسماعیل خان میں عسکریت پسند تنظیمیں وقتاً فوقتاً سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ سب سے فعال گروپ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، گنڈا پور گروپ رہا ہے، جس کی بنیاد سنہ 2006-2007 میں رکھی گئی تھی۔ ابتدا میں یہ گروپ افغانستان میں کارروائیاں کرتا رہا، لیکن بعد میں کلاچی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں متحرک ہوگیا۔ 

 

مفتی شفیق، قاری عمران اور شہاب گروپ کی قیادت کرتے رہے، جن میں مفتی شفیق اور قاری عمران ایک مدرسے سے فارغ التحصیل تھے۔ سنہ 2009 کے بعد یہ گروپ علاقے میں امیر افراد سے بھتہ وصول کرنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا۔

 

گروپ کے اہم اراکین میں قاری عمران بھی شامل تھا جو پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوا، اور بعد ازاں عمران گنڈا پور نے گروپ کی سرگرمیاں آگے بڑھائیں۔ اس گروپ کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سنہ 2011 میں کلاچی تھانے پر حملہ شامل ہے، جس میں ایک خاتون حملہ آور بھی تھی اور آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

 

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت دیگر اہم سیاسی و کاروباری افراد سے بھتہ وصول کیا جاتا رہا۔ 

 

اقبال عرف بالی کھیارہ اور مفتی جاوید، جو پہلے سپاہ صحابہ پاکستان اور بعد میں لشکر جھنگوی سے منسلک تھے، 4 مئی 2023 کو پولیس کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہو گئے۔ 

 

بالی کھیارہ زیادہ تر حملے پولیس، اہل تشیع اور دیگر افراد پر کرتا رہا۔

 

انسداد دہشت گردی کے محکمے کے مطابق اقبال عرف بالی کھیارہ قتل، اقدام قتل، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے 26 مقدمات میں انتہائی مطلوب تھا، جن میں 21 مقدمات ڈیرہ اسماعیل خان اور 5 مقدمات ملتان میں درج تھے۔ ضلعی پولیس کے مطابق بالی کھیارہ کے سر کی قیمت ایک کروڑ 40 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق یہ خطہ، جو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو آپس میں ملاتا ہے، چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا مرکزی روٹ بھی ہے، جس کی وجہ سے یہاں سیکورٹی خدشات اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کی شدت برقرار ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C