11/October/2025

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر پاکستانی طالبان کا خودکش حملہ، 8 ہلاکتیں

👁️ 427 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر پاکستانی طالبان کا خودکش حملہ، 8 ہلاکتیں

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر پاکستانی طالبان کا خودکش حملہ، 8 ہلاکتیں

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کے ایک منظم اور خودکش حملے کو پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔

 

پولیس کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں خودکش بمبار سمیت 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جن کے قبضے سے بھاری اسلحہ، دستی بم اور خودکش جیکٹس برآمد ہوئیں۔ آپریشن کے دوران 7 پولیس اہلکار ہلاک اور 13 زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

 

ڈی پی او ڈیرہ سجاد احمد صاحبزادہ کے مطابق ٹریننگ سینٹر میں زیر تربیت ریکروٹس، اساتذہ اور عملہ سمیت تقریباً 200 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور جدید خودکار ہتھیاروں سے لیس تھے اور انہوں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم مرکزی دروازے پر موجود پولیس اہلکاروں نے مزاحمت کی۔ اسی دوران ایک خودکش حملہ آور نے گاڑی کے ذریعے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

 

ڈی پی او کے مطابق، ایس ڈی پی او، پاک فوج کے البرق ڈویژن کے ایس ایس جی کمانڈوز اور پولیس افسران نے آپریشن کی براہِ راست نگرانی کی۔ حملے کے دوران علاقے میں فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

 

عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور سینٹر کے اندر داخل ہوکر گاڑیوں اور عمارتوں کو نذرِ آتش کر رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے قریبی نادرا آفس سمیت دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا۔

 

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں، تاہم علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

 

وادی تیراہ میں چیک پوسٹ پر حملہ: 11 اہلکار ہلاک

 

ادھر قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں کنڈاو چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 11 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں نے رات گئے 27 بریگیڈ کے زیرِ کمان 7 سندھ یونٹ کی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

 

عینی شاہدین کے مطابق فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ دو گھنٹے سے زائد جاری رہا، جبکہ حملہ آوروں کی تعداد تقریباً 100 بتائی جاتی ہے۔ عسکریت پسندوں نے حملے کے دوران ڈرون کا استعمال بھی کیا اور فورسز کی کئی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

 

واقعے کے بعد قبیلہ برقمبر خیل کے مشران اور مقامی افراد جائے وقوعہ پر پہنچے اور لاشوں و زخمیوں کو نکال کر 7 سندھ یونٹ ہیڈکوارٹر منتقل کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے، جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے سرچ آپریشن جاری ہے۔ عوام کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

کرم، ہنگو اور باجوڑ میں بھی جھڑپیں

 

گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حملوں میں شدت دیکھی گئی ہے۔

 

ضلع کرم میں عسکریت پسندوں کے حملے میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف، میجر طیب راحت سمیت 17 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اسی دوران ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں جاری آپریشن کے دوران میجر سبطین سمیت دو اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ہنگو اور باجوڑ میں علیحدہ واقعات میں مزید دو فوجی مارے گئے۔

 

اس طرح گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران ٹی ٹی پی کے مختلف حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے 30 سے زائد افسران و اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

 

دہشت گردی کی لہر میں اضافہ

 

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بیشتر حملے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

 

پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر اس وقت دوبارہ تیز ہوئی جب ٹی ٹی پی نے 2022 میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کر دی تھی۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق، حالیہ حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تنظیم ایک مرتبہ پھر مربوط کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C