24/October/2025

کراچی: مذہبی جماعت کے کارکنوں کی ہلاکت میں ملوث زینبیون بریگیڈ کے 2 دہشتگرد گرفتار

👁️ 491 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی: مذہبی جماعت کے کارکنوں کی ہلاکت میں ملوث زینبیون بریگیڈ کے 2 دہشتگرد گرفتار

کراچی: مذہبی جماعت کے کارکنوں کی ہلاکت میں ملوث زینبیون بریگیڈ کے 2 دہشتگرد گرفتار

کراچی (نمائندہ ڈیلی اردو) کراچی پولیس کے ‏کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مذہبی جماعت کے کارکنان کی حالیہ ہلاکتوں میں ملوث ایرانی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کے دو دہشتگرد گرفتار کر لیے ہیں۔

 

سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) غلام اظفر مہیسر نے کہا کہ گرفتار دہشتگردوں کا تعلق کالعدم زینبیون نیٹ ورک سے ہے جو پڑوسی ملک سے آپریٹ کر رہا تھا۔

 

ڈی آئی جی نے گارڈن ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گرفتار ملزمان کی شناخت اسرار حسین گلگتی اور معصوم رضا عرف عامر اللہ عرف عمران موٹا کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں دہشتگرد کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔ ان کے قبضے سے دو ہینڈ گرنیڈ اور دو پستولیں برآمد ہوئیں۔

 

غلام اظفر مہیسر کے مطابق ملزم معصوم رضا 20 روز قبل پاکستان آیا تھا اور اس کے قبضے سے ایک ہٹ لسٹ بھی ملی جس میں مزید اہداف درج تھے۔

 

غلام مہیسر کے مطابق ’معصوم رضا کا نام سی ٹی ڈی کی ریڈ بک میں شامل تھا اور دونوں ملزمان فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک مذہبی جماعت کے رکن کے ہلاکت میں ملوث ہیں۔‘

 

ملزمان نے حالیہ دنوں میں گلستان جوہر کے علاقے سمامہ شاپنگ مال کے قریب قاری انس اور مئی 2025 میں شیر پاؤ کالونی میں قاری عبدالرحمٰن کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔

 

ڈی آئی جی کے مطابق دہشتگردوں کا یہ نیٹ ورک پڑوسی ملک ایران سے آپریٹ کیا جا رہا تھا اور ان کے سہولت کاروں کی بھی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ ان پر ٹیرر فنانسنگ کے مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

 

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کراچی میں اس گروہ کے دو سے چار سلیپر سیلز موجود ہیں، جنہوں نے مختلف مقامات پر اسلحہ چھپا رکھا تھا۔ دہشتگرد کارروائی کے بعد ہتھیار خفیہ جگہوں پر دفن کر دیتے تھے، اور تفتیش کے دوران کچھ چھپائے گئے ہتھیاروں کے مقامات کے متعلق معلومات بھی حاصل ہوئی ہیں۔

 

ڈی آئی جی نے کہا کہ نیو کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں میں یہی گروہ ملوث ہے یا نہیں، اس بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ پولیس کلنگ کیسز پر کام کر رہی ہے اور جس گروہ کی نشاندہی ہو چکی ہے، وہ جلد قانون کی گرفت میں ہوگا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے سی ٹی ڈی کے لیے الگ پراسیکیوٹرز مقرر کیے ہیں جس سے تفتیش کے معیار میں بہتری آئی ہے۔ “بدقسمتی سے اچھا کام زیادہ اجاگر نہیں ہوتا، جبکہ منفی خبریں زیادہ پھیل جاتی ہیں، حالانکہ سی ٹی ڈی کی کارکردگی پہلے سے کافی بہتر ہوئی ہے۔”

 

گذشتہ ہفتے حیدرآباد میں دو کیسز میں عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں، جبکہ کراچی میں ایک ہفتے کے دوران تین دہشتگردوں کو دہشتگردی کے مقدمات میں عمر قید اور جرمانے کی سزائیں دی گئیں۔

 

پس منظر

 

یاد رہے کہ گزشتہ روز ناگن چورنگی کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کالعدم شدت پسند تنظیم اہلِ سنت والجماعت سے وابستہ مولانا سید شاہ اویس پیرزادہ اور ان کے ساتھی ابوبکر ہلاک ہوگئے تھے۔

 

پاکستانی حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں زینبیون بریگیڈ سے وابستہ متعدد عسکریت پسند گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر گرفتاریاں کراچی سے ہوئی، جبکہ دیگر گرفتاریاں پاراچنار، کوئٹہ اور گلگت بلتستان سے بھی عمل میں آئیں۔

 

وزارت داخلہ پاکستان نے مارچ 2024 میں زینبیون بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اسے 2019 سے دہشتگرد تنظیم تسلیم کر رکھا ہے۔

 

صحافی شبیر حسین طوری کے مطابق، زینبیون بریگیڈ کا قیام شام میں بی بی زینب کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے ہوا تھا، اور اس میں پاکستانی شدت پسند تنظیم سپاہ محمد کے افراد بھی شامل تھے تاکہ وہ شام کی خانہ جنگی میں حصہ لے سکیں۔

 

شام میں یہ جنگ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف پرامن احتجاج سے شروع ہوئی، جو بعد میں فرقہ وارانہ تنازع میں تبدیل ہو گئی۔ سیرین آبزرویٹری فار ہیوم رائٹس کے مطابق اس جنگ میں اب تک تقریباً چار لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

شبیر طوری کے مطابق، شام میں جنگ کے بعد مختلف ممالک کی شدت پسند تنظیمیں وہاں پہنچیں۔ امریکی سکیورٹی فرم سوفان گروپ کے مطابق 2016 تک شام میں 81 ممالک کی شدت پسند تنظیمیں موجود تھیں، جن میں پاکستانی شدت پسند تنظیمیں بھی شامل تھیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C