02/June/2025

کراچی ملیر جیل سے 216 خطرناک قیدی فرار، فائرنگ سے ایک ہلاک، 3 زخمی

👁️ 210 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی ملیر جیل سے 216 خطرناک قیدی فرار، فائرنگ سے ایک ہلاک، 3 زخمی

کراچی ملیر جیل سے 216 خطرناک قیدی فرار، فائرنگ سے ایک ہلاک، 3 زخمی

کراچی (بیورو رپورٹ ) پاکستان کے صوبہ سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 200 سے زائد انتہائی خطرناک قیدی فرار ہوگئے، 80 سے زائد مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا، فرار ہونے کے دوران ایک قیدی ہلاک، 3 زخمی ہوگئے۔

ڈیلی اردو کے مطابق جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیر کی رات زلزلے کے دوران نقصان سے بچنے کے لیے قیدیوں کو بیرکوں سے باہر بٹھایا گیا تھا، زلزلے کے دوران قیدیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی۔

حکام کے مطابق قیدیوں نے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، اور ماڑی کا گیٹ بھی توڑ ڈالا، ڈی آئی جی جیل خانہ جات حسن سہتو کے مطابق ملیر جیل میں سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے، پولیس، رینجرز اور ایف سی نے ملیر جیل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ملیر کے مختلف علاقوں میں لانڈھی جیل سے فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لیے مساجد میں اعلان کا سلسلہ شروع کیا گیا، اعلانات میں شہریوں سے قیدیوں کی گرفتاری میں مدد کی اپیل کی گئی۔

سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد شاہ نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ جیل سے قیدیوں کے فرار کے واقعے میں ایک قیدی ہلاک اور 3 زخمی ہوئے، جیل کی سرکل نمبر 4 اور 5 کے 600 سے زائد قیدی بیرک سے باہر تھے، 216 قیدی فرار ہوئے، جن میں سے 80 قیدی دوبارہ گرفتار کرلیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ 135 قیدیوں کی تلاش جاری ہے، واقعے میں 3 ایف سی اور 2 جیل پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کیلئے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی جیل کا کہنا تھا کہ صورتحال قابو میں ہیں، جیل میں قیدیوں کی گنتی کریں گے تو پتہ چلے گا کتنے قیدی فرار ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں نے جیل میں پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھینا، پولیس اور قیدیوں کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔

اطلاعات تھیں کہ زلزلے کے باعث جیل کے بیرکس کی دیواروں میں دراڑ پڑ گئی تھی،کچھ قیدی جیل کی دیوار توڑ کر فرار ہوگئے۔

ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں گذشتہ 48 گھنٹوں میں 11 بار زلزلے محسوس کیے گئے۔ زلزلوں کے بعد قیدیوں کو حفاظتی طور پر بیرکوں سے باہر منتقل کیا گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیدیوں نے دیوار کو دھکا دے کر توڑ دیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق ملیر جیل کی دیوار حالیہ زلزلوں کے جھٹکوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھی۔

وزیر داخلہ سندھ کا ملیر جیل کا دورہ
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے ملیر جیل کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا، اور میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملیر جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی، قیدی گیٹ سے باہر نکلے ہیں۔

وزیر داخلہ نے دعوی کیا ہے کہ قیدیوں کے مکمل کوائف موجود ہیں اور کوئی خطرناک یا دہشت گرد قیدی فرار نہیں ہوا۔

قیدیوں کی تلاش میں پولیس، رینجرز، ایس ایس یو اور دیگر سکیورٹی ادارے بھرپور انداز میں شریک ہیں۔

ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ فرار ہونے والے قیدی سنگین جرائم میں ملوث نہیں تھے، ملیر جیل میں پیش آنے والے واقعے میں کوتاہی بھی ہوسکتی ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ ملیر جیل میں زیادہ تر منشیات کے قیدی ہوتے ہیں، اور ایسے لوگ نفسیات کے مریض ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز نے بروقت کارروائی کی، ایسے قیدی جلدی پکڑے جاتے ہیں، ملیر جیل کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ اعلیٰ سطح پر اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں پولیس اور دیگر اداروں کے افسران شامل ہوں گے، واقعے میں اگر کوئی افسر ملوث نکلا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C