کرد فورسز نے ایرانی مظاہرین کیلئے بھیجے گئے امریکی ہتھیار روک لیے، صدر ٹرمپ
👁️ 314 بار دیکھا گیا
کرد فورسز نے ایرانی مظاہرین کیلئے بھیجے گئے امریکی ہتھیار روک لیے، صدر ٹرمپ
برلن (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں اس وقت ایک نئے تنازعے کو ہوا دی، جب انہوں نے خطے میں موجود کرد گروہوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے وہ ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے، جو ایران میں مظاہرین تک پہنچانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔
فروری کے آخر میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے پر کے بعد مارچ کے اوائل میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر عراق میں سرحد پار موجود ایرانی کرد فورسز تہران کی اسلامی مذہبی حکومت کے خلاف حملے شروع کریں تو یہ ''بہت شاندار‘‘ ہوگا۔
اس کے اگلے ماہ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ نے کرد معاونت کاروں کے ذریعے ایران کے اندر مظاہرین تک ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی تھی۔
ٹرمپ نے کہا، ''ہم نے مظاہرین کو بہت سے ہتھیار بھیجے تھے، اور میرا خیال ہے کہ کردوں نے وہ ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے۔‘‘
مئی میں انہوں نے کہا کہ وہ ''کردوں سے بہت مایوس‘‘ ہیں اور مزید کہا کہ واشنگٹن نے ''کچھ ہتھیار اور گولہ بارود بھیجا تھا، جو آگے پہنچایا جانا تھا لیکن انہوں نے اسے اپنے پاس ہی رکھ لیا۔‘‘
عراق، ترکی اور شام میں موجود مختلف کرد دھڑوں کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو سے بات کی اور ان سب نے واضح طور پر اس بات کی تردید کی کہ انہیں امریکہ کی جانب سے کوئی ہتھیار موصول ہوئے تھے۔
ایران میں کرد تنظیموں، جن میں مسلح گروہ کردستان فری لائف پارٹی (پی جے اے کے) بھی شامل ہے، نے بھی وائٹ ہاؤس کے اس بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان گروہوں کی قیادت ٹرمپ کے بیانات کو نہ صرف عملی طور پر ناممکن بلکہ سیاسی طور پر نقصان دہ قرار دیتی ہے۔
ایرانی کردستان کی کوملہ پارٹی کی نائب سیکریٹری جنرل فریبہ محمدی نے ان الزامات کو ''نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھیار کبھی بھی کرد سیاسی جماعتوں یا فورسز تک نہیں پہنچے اور اس دعوے کو زمینی حقیقت کے بجائے علاقائی سیاسی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کوملہ (کمیونسٹ پارٹی آف ایران) کی مرکزی کمیٹی کے رکن ادیب وطن دوست نے کہا کہ ان کی تنظیم کو ''ایک گولی تک، بلکہ کوئی معمولی رقم بھی‘‘ موصول نہیں ہوئی۔
انہوں نے اس مبینہ کارروائی کو کرد عوام کے حقیقی جمہوری مفادات کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کے ایجنڈے کی خدمت قرار دیا۔ ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی(کے ڈی پی آئی) کے نائب سیکریٹری جنرل مصطفیٰ مولودی نے کہا کہ عملی اور لاجسٹک اعتبار سے یہ الزامات ناقابلِ عمل ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ سخت فوجی نگرانی والی سرحدیں، ایرانی سکیورٹی فورسز کی وسیع موجودگی اور تہران و بغداد کے درمیان حالیہ سخت سکیورٹی معاہدے اسلحہ کی ایسی کسی بھی سرحد پار منتقلی کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی ترسیل سے متعلق ٹرمپ کے متنازع دعوے دراصل سیاسی توجہ ہٹانے کی ایک مثال ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ پر توجہ دینے والے ادارے 'دی امارگی آؤٹ لیٹ‘ کے ایڈیٹر اِن چیف کمال چومانی نے اس صورتحال کا موازنہ بائبل میں بیان کردہ 'سنہری بچھڑے‘ کی کہانی سے کیا، جو قیادت کی ناکامیوں اور الزام دوسروں پر ڈالنے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
چومانی کے مطابق ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے شدید متاثر تھے اور انہوں نے اس غلط اور حد سے زیادہ پُرامید اندازے پر کام کیا کہ ایرانی حکومت جلد ہی گرنے والی ہے۔ جب ایسا نہ ہوا تو ٹرمپ کو کسی قربانی کے بکرے کی ضرورت پڑ گئی۔
چومانی نے کہا، ''اس ناکامی کو چھپانے کے لیے ٹرمپ کردوں کو ایک ‘سنہری بچھڑا' بنا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''کردوں کو ایران منتقل کرنے کے لیے کوئی ہتھیار نہیں بھیجے گئے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، حتیٰ کہ اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں، ہتھیار پہنچانا تو ایک طرف رہا۔‘‘
یونیورسٹی آف سسیکس میں بین الاقوامی تعلقات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران متین نے بھی اس تجزیے سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا، ''ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی جنگ کی ناکامی، جو اپنے بنیادی اہداف حاصل نہ کر سکی، کا جواز پیش کرنے کے لیے کردوں کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ''ایرانی مظاہرین سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا نہ کر سکنے کی ناکامی بھی کردوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ جب ایرانی حکومت مظاہرین کا قتل عام کرے گی تو وہ ان کی مدد کو آئیں گے۔‘‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات کرد سیاسی معاشرے سے متعلق ان کی بنیادی لاعلمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
امریکی صدر 'کردوں‘ کا ذکر اس انداز میں کرتے ہیں جیسے وہ ایک واحد، متحدہ گروہ ہوں، جو واشنگٹن کے احکامات کا انتظار کر رہا ہو۔ جبکہ تین کروڑ سے زائد کرد آبادی کئی ممالک، خاص طور پر ایران، عراق، ترکی اور شام، میں پھیلی ہوئی ہے۔
ہر ملک کا اپنا پیچیدہ سیاسی منظرنامہ، بائیں بازو سے لے کر قدامت پسند نظریات تک مختلف جماعتیں، اور الگ علاقائی حالات ہیں۔
ڈاکٹر کامران متین نے اس لاعلمی کے خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا،''ٹرمپ کو کرد معاشرے اور سیاست کی بہت محدود سمجھ ہے۔ تمام کردوں کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرا کر، مختلف کرد گروہوں، جماعتوں اور خطوں کے فرق کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، وہ جنگ مخالف اور امریکہ مخالف عوامی جذبات کا رخ کردوں کی جانب موڑ رہے ہیں، جو ان کرد گروہوں پر خطرناک حملوں کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 281 بار دیکھا گیا
ایران نواز گروہوں سے عالمی خطرہ، امریکہ نے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا
20/July/2026 👁️ 145 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک، 8 مشتبہ افراد گرفتار
20/July/2026 👁️ 187 بار دیکھا گیا
پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ، کرم سیکٹر میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال
20/July/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ
19/July/2026 👁️ 266 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک
19/July/2026 👁️ 202 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8961 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4810 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3571 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3395 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2565 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2318 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C