21/November/2025

کرم میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں، ٹی ٹی پی کے کاظم گروپ کے 23 شدت پسند ہلاک

👁️ 315 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں، ٹی ٹی پی کے کاظم گروپ کے 23 شدت پسند ہلاک

کرم میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں، ٹی ٹی پی کے کاظم گروپ کے 23 شدت پسند ہلاک

اسلام آباد (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی سرحد کے قریب مقامی طالبان کے خلاف اپنی مسلح کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن کے دوران تحریک طالبان پاکستان کے کاظم گروپ کے عسکریت پسندوں کے دو ٹھکانوں پر چھاپوں میں ملکی فوج کے مطابق 23 جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں 19 نومبر کو ’انڈین پراکسی‘ کے 23 شدت پسندوں کو دو الگ الگ جھڑپوں میں ہلاک کیا گیا۔ 

 

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ایک ہدف بنا کر کارروائی کی، جس دوران فوجی اہلکاروں نے شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 12 شدت پسندوں کو نشانہ بنایا اور اسی علاقے میں ایک اور شدت پسند گروپ کی موجودگی کے حوالے سے انٹیلی جنس معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیارہ مزید شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ 

 

پاکستانی آرمی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس لڑائی میں سکیورٹی دستوں کو کسی جانی نقصان کا سامنا ہوا یا نہیں۔ 

 

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں تلاشی کا عمل جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ شدت پسند کو ختم کیا جا سکے اور بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے وژن ’عزم استحکام‘ کے تحت غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کی مہم بھرپور رفتار سے جاری رہے گی۔ 

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کرم میں دو کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور قوم کو سکیورٹی دستوں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جرات پر فخر کا موقع فراہم کیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔ 

 

پاکستان اور افغانستان کے مابین اکتوبر میں ہونے والی ہلاکت خیز سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی تھی، جس کا پس منظر یہ تھا کہ اسلام آباد کی طرف سے کابل پر الزام لگایا جاتا ہے کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں اور ان کے رہنماؤں کو اپنے ہاں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں، جہاں سے یہ گروہ سرحد پار کر کے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرتا ہے۔ 

 

کابل میں افغان طالبان کی حکومت کی طرف سے ان الزامات کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ 

 

دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کے بعد تمام سرحدی گزر گاہیں گزشتہ ماہ سے بند ہیں اور اس وقت عبوری فائر بندی جاری ہے، جس کے لیے ثالثی کی ذمہ داری خلیجی عرب ریاست قطر اور ترکی نے سنبھالی ہے۔ 

 

قبل ازیں پاکستانی فوج کی طرف سے اسی ہفتے بتایا گیا تھا کہ شمال مغربی پاکستان میں سکیورٹی دستوں اور طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان چند روز قبل ہونے والی ایک دوسری مسلح جھڑپ میں بھی 38 جنگجو مارے گئے تھے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدی سکیورٹی اور شدت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل اور بڑے پیمانے پر آپریشنز کر رہا ہے۔ 

 

افغانستان کے ساتھ سرحد کے اس حساس علاقے میں پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، کاظم گروپ کے محفوظ ٹھکانوں اور سرحد پار سے کی جانے والی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے، اور علاقے میں سکیورٹی اور استحکام کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C