09/December/2025

کرم: پاراچنار میں حضرت علیؑ کی شان میں گستاخی پر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج

👁️ 410 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم: پاراچنار میں حضرت علیؑ کی شان میں گستاخی پر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج

کرم: پاراچنار میں حضرت علیؑ کی شان میں گستاخی پر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم کے صدر مقام پاراچنار میں پولیس نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص محمد رسول کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کر لیا۔

 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرم ملک حبیب خان نے سوشل میڈیا پر امام علی علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ ویڈیو کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔

 

اس کے بعد ایس ایچ او تھانہ سٹی اشتیاق حسین نے گستاخ کے خلاف PPC 153، 153A، 295A، 298، 298A، 7ATA، 9ATA کی دفعات کے تحت باقاعدہ ایف آئی آر درج کی۔ پولیس نے بتایا کہ گستاخ کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

 

ڈی پی او کرم ملک حبیب خان نے واضح کیا کہ ضلع کرم میں دیرپا امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور انتشار پھیلانے والے عناصر کے ساتھ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی اور ایسے افراد کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔

 

پولیس نے تمام سوشل میڈیا صارفین کو بھی خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ کریں تاکہ علاقے کے امن و امان کو نقصان نہ پہنچے۔

 

توہینِ مذہب

 

پاکستان پینل کوڈ میں توہینِ مذہب کے حوالے سے جرائم سے متعلق پورا باب موجود ہے، جس میں مذہبی مقدس مقامات، عبادت کے مقامات یا خاص مذہبی گروہ کی توہین کو جرم قرار دینے کے ساتھ ساتھ آسمانی کتابوں، مذہبی جذبات کو جان بوجھ کر ٹھیس پہنچانے اور پیغمبروں کی توہین کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

 

تاریخی و مذہبی پس منظر: حضرت علی علیہ السلام کی شہادت

 

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام، مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ، پیغمبرِ اسلام کے چچازاد بھائی، اور شیعہ مسلمانوں کے پہلے امام ہیں۔

 

کوفہ میں اسلامی ریاست کے دارالخلافہ کی مسجد میں 19 رمضان کو عبدالرحمان ابن ملجم نے نمازِ فجر کے دوران زہر میں بجھی تلوار سے وار کر دیا۔ یہ وار مہلک ثابت ہوا اور دو دن بعد یعنی 21 رمضان کو حضرت علی علیہ السلام شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد کوفہ اسلامی حکومت کا دارالخلافہ رہا، جس کے بعد مرکز حکومت شام منتقل ہو گیا۔

 

توہین مذہب کے قوانین اور ان کی تاریخ

 

توہینِ مذہب کے قوانین پہلی مرتبہ برصغیر میں برطانوی راج کے زمانے میں سنہ 1860 میں بنائے گئے تھے اور پھر سنہ 1927 میں ان میں اضافہ کیا گیا تھا۔

 

سنہ 1980 اور 1986 کے درمیان جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے دور میں متعدد شقیں ڈالی گئیں۔ جنرل ضیا ان قوانین کو اسلام سے مزید مطابقت دینا چاہتے تھے اور احمدیہ برادری (جسے 1973 میں غیر مسلم قرار دیا جا چکا تھا) کو ملک کی مسلمان اکثریت سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے۔

 

برطانوی راج نے جو قوانین بنائے ان میں کسی مذہبی اجتماع میں خلل ڈالنا، کسی قبرستان میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، کسی کے مذہبی عقیدے کی توہین کرنا، یا سوچ سمجھ کر کسی کی عبادت گاہ یا عبادت کی کسی چیز کی توہین کرنا جرم قرار پائے تھے۔ ان قوانین میں زیادہ سے زیادہ سزا دس سال قید اور جرمانہ تھی۔

 

1980 کی دہائی میں توہینِ مذہب کے قوانین میں اضافہ کیا گیا۔ 1980 میں اسلامی شخصیات کے خلاف توہین آمیز بیانات کو بھی جرم قرار دے دیا گیا تھا جس میں تین سال قید کی سزا مقرر کی گئی۔

 

1982 میں ایک اور شق شامل کی گئی جس میں جان بوجھ کر قرآن کی بےحرمتی کی سزا پھانسی رکھ دی گئی۔ 1986 میں پیغمبرِ اسلام کی توہین کی سزا بھی موت یا عمر قید رکھ دی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C