30/December/2025

یمن میں سعودی عرب–امارات کشیدگی میں اضافہ، فضائی کارروائیاں تیز

👁️ 243 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن میں سعودی عرب–امارات کشیدگی میں اضافہ، فضائی کارروائیاں تیز

یمن میں سعودی عرب–امارات کشیدگی میں اضافہ، فضائی کارروائیاں تیز

ریاض (ڈیلی اردو، روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے) سعودی فوجی اتحاد نے یمن میں اسلحے کی ایک کھیپ پر فضائی حملہ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی فورسز کو 24 گھنٹوں میں یمن چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ ریاض حکومت کی طرف سے ابوظہبی کے خلاف یہ اب تک کا سب سے سخت بیان ہے۔

 

تیل پیدا کرنے والے دو خلیجی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ 

 

سعودی عرب نے منگل کے روز کہا کہ اس کی قومی سلامتی ایک سرخ لکیر ہے۔ اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہی سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ، جنوب کے علیحدگی پسندوں کو ملنے والی غیر ملکی فوجی امداد کو نشانہ بنایا۔

 

سعودی عرب کے حمایت یافتہ اور یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں امارات پر یمن میں اندرونی انتشار کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔

 

انہوں نے مزید کہا، ''بدقسمتی سے یہ حتمی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) پر دباؤ ڈالا اور اسے ہدایت کی کہ وہ فوجی اضافے کے ذریعے ریاستی اختیار کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ بغاوت کرے۔‘‘

 

یو اے ای کی فورسز یمن چھوڑ دیں، سعودی عرب

 

سعودی عرب نے بھی متحدہ عرب امارات پر زور دیا ہے کہ وہ یمن چھوڑنے کے رشاد العلیمی کے مطالبے کی تعمیل کرے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس نئی پیش رفت کے تناظر میں کوئی بھی تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

 

چند روز پہلے بھی سعودی اتحاد نے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز کو نشانہ بنایا تھا۔ حالیہ پیش رفت کے بعد جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) اور سعودی حمایت یافتہ

 یمنی حکومتی فورسز ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہو چکی ہیں۔ 

 

 قبل ازیں جمعرات کو ریاض حکومت نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے کہا تھا کہ وہ پیش قدمی نہ کریں اور پیچھے ہٹ جائیں جبکہ ان جنگجوؤں نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

 

اس کونسل کے جنگجوؤں نے رواں ماہ یمن کے صوبوں حضرموت اور المہرہ میں پیش قدمی کی تھی۔ اس سے سعودی حمایت یافتہ ان نیشنل شیلڈ فورسز سے منسلک فورسز کو پیچھے دھکیلا گیا، جو حوثیوں کے خلاف اتحاد کا حصہ ہیں۔

 

متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ کونسل سے منسلک افراد جنوبی یمن کا پرچم لہرا رہے ہیں، جو 1967ء سے 1990ء تک ایک علیحدہ ملک تھا۔

 

سعودی فوجی اتحاد کا تازہ حملہ

 

سعودی فوجی اتحاد کے مطابق تازہ محدود فضائی حملہ ہفتے کے آخر میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے دو جہازوں کی آمد کے بعد کیا گیا، جو ہفتے اور اتوار کو بغیر اجازت یمن پہنچے۔ بیان کے مطابق المکلا پہنچنے کے بعد ان جہازوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے اور بڑی مقدار میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاریں۔ اسلحے کی یہ کھیپ ایس ٹی سی کی حمایت کے لیے تھی۔

 

سعودی فوجی اتحاد کے سرکاری میڈیا کے مطابق المکلا بندرگاہ پر حملے سے کوئی ہلاکتیں یا ضمنی نقصان نہیں ہوا۔ دو ذرائع نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ حملے کا نشانہ وہ مقام تھا، جہاں دو جہازوں کا سامان اتارا گیا تھا۔

 

متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز جنوب میں وسیع علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہیں، جن میں اسٹریٹیجک طور پر اہم صوبہ حضرموت  بھی شامل ہے۔ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے تمام بندرگاہوں اور گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے نو فلائی زون کے ساتھ ساتھ سمندری اور زمینی ناکہ بندی نافذ کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

 

سعودی عرب سے ملحق علاقے حضرموت کے اس کے ساتھ ثقافتی اور تاریخی روابط ہیں جبکہ کئی ممتاز سعودیوں کی جڑیں بھی اس علاقے سے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C