یورپی یونین اور طالبان کے درمیان رابطے، افغان شہریوں کی ملک بدری پر تنازع بڑھ گیا
👁️ 235 بار دیکھا گیا
یورپی یونین اور طالبان کے درمیان رابطے، افغان شہریوں کی ملک بدری پر تنازع بڑھ گیا
برسلز (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) رواں ماہ کے آغاز میں جب یورپی یونین (ای یو) کے افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی نے کابل کا دورہ کیا تو اطلاعات سامنے آئیں کہ اس موسم گرما میں طالبان کے ایک وفد کو برسلز میں مدعو کیا جا سکتا ہے۔
یورپی یونین کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ اس خبر کی تصدیق تو نہیں کر سکتے تاہم افغانوں کی ملک بدری کے حوالے سے یورپی یونین اور طالبان کے درمیان ''تکنیکی سطح‘‘ پر بات چیت جاری ہے، جس کی کئی یورپی ممالک نے درخواست کی تھی۔
ای یو کے ترجمان مارکوس لامیرٹ نے ڈی ڈبلیو کے ایک سوال کے جواب میں کہا، ''یہ رابطے 20 وزرائے داخلہ کے ایک مشترکہ خط کے بعد ہوئے، جس میں رکن ممالک نے واپسی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے یورپی یونین کی مزید مدد‘‘ کا مطالبہ کیا تھا۔
اکتوبر میں تقریباً 20 یورپی ممالک نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کابل میں طالبان سے رابطہ کرے اور ان افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کا راستہ تلاش کرے جن کے پاس یورپ میں قانونی رہائش نہیں ہے یا جنہیں سکیورٹی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی ڈچ رکن ٹینیکے اسٹرک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''سویڈن کے حکام طالبان کو مدعو کرنے کے لیے تیار ہیں اور بیلجیم کے حکام ویزا دینے کے لیے تیار ہیں،‘‘ تاکہ طالبان کی ایک ٹیم یورپی کمیشن کے ساتھ افغان شہریوں کی واپسی کے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے آ سکے۔
اگرچہ ابھی تک کمیشن کی جانب سے باضابطہ دعوت نہیں دی گئی اور اس پر غور جاری ہے، تاہم کچھ ارکان پارلیمنٹ اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ طالبان سے بات کرنا ہی کافی حد تک غلط ہے۔
اسٹرک نے کہا، ''طالبان سے بات کرنا انہیں معمول کا حصہ بنا دیتا ہے، اور وہ کسی بھی دوسرے ملک کے رہنما کی طرح نظر آنے لگتے ہیں۔‘‘
اکتوبر میں بیلجیم کی قیادت میں ایک اقدام کے تحت متعدد یورپی ممالک نے یورپی کمیشن سے مداخلت کی درخواست کی تھی تاکہ وہ افغان شہریوں کو ملک بدر کر سکیں۔
بلغاریہ، قبرص، جرمنی، ایسٹونیا، فن لینڈ، یونان، ہنگری، آئرلینڈ، اٹلی، لیتھوانیا، لکسمبرگ، مالٹا، نیدرلینڈز، آسٹریا، پولینڈ، سلوواکیہ، چیک جمہوریہ، سویڈن، اور یورپی یونین سے باہر ناروے نے یورپی یونین سے کہا تھا کہ ایسے عملی طریقے تلاش کیے جائیں جن کے ذریعے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جا سکے۔
انہوں نے پناہ اور ہجرت سے متعلق یورپی کمشنر ماگنس برونر سے مطالبہ کیا تھا کہ طالبان کے ساتھ واپسی کا ایک طریقہ کار طے کیا جائے۔
یورپی پارلیمنٹ کی بیلجین رکن ساسکیا برکموں کا کہنا ہے کہ رکن ممالک سے ملک بدری ممکن بنانے کے لیے کمیشن کی جانب سے طالبان کے ساتھ ایک نام نہاد ''ری ایڈمشن معاہدہ‘‘ کرنا ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا معاہدہ عام طور پر کسی حکومت یا یورپی یونین اور کسی تیسرے ملک کے درمیان ہوتا ہے، اور اس صورت میں یہ طالبان کو ایک تسلیم شدہ حکومت کا درجہ دینے کا خطرہ پیدا کر دے گا۔
تاہم جرمنی جیسے کچھ ممالک نے الگ راستہ اختیار کیا ہے اور یورپی یونین کی ثالثی کے بغیر ہی ملک بدری شروع کر دی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ روابط یورپی یونین کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس عسکریت پسند گروہ کو معمول کا حصہ بنانے کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغان شہریوں کو ایسے ملک واپس بھیجنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے، ’’جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مکمل دستاویزات موجود ہیں، جہاں خاص طور پر خواتین، لڑکیوں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف حقوق کی خلاف ورزیاں وسیع اور منظم ہیں، اور جہاں ایک سنگین انسانی بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
کچھ دیگر افراد کا کہنا ہے کہ یہ ملک بدری یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر قانونی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی رکن برکموں کا کہنا تھا، ''ان لوگوں کو واپس بھیجنا جو غالباً اسی نظام سے بچنے کے لیے فرار ہوئے تھے، اس کا مطلب ہے کہ ہم بطور یورپی انہیں ممکنہ طور پر موت کی طرف واپس بھیجنے کے ذمہ دار ہوں گے۔‘‘
البتہ کچھ لوگ یورپی یونین کی مشکلات کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ایک طرف رکن ممالک اس ادارے پر انحصار کر رہے ہیں کہ وہ افغان شہریوں کی ملک بدری کے لیے کوئی طریقہ کار تلاش کرے، جس سے ممکنہ طور پر حفاظتی اقدامات بھی یقینی بنائے جا سکیں۔ دوسری طرف اسے طالبان کو عملی طور پر تسلیم کرنے سے بھی بچنا ہے۔
سویڈن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی یورپی رکن پارلیمنٹ ایوِن اِنسر نے کہا، ''میرا خیال ہے کہ یورپی یونین کو ایسے طریقے سے عمل کرنا چاہیے کہ وہ اس نظام کو قانونی حیثیت نہ دے۔ اسی کے ساتھ، جن لوگوں کو یورپ میں رہنے کا حق ہے انہیں رہنے دیا جائے، اور جنہیں نہیں ہے، انہیں ایسے طریقے سے واپس بھیجا جائے جو ممکن ہو۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بنوں : ڈومیل میں سیکیورٹی آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک، 4 آئی ای ڈیز ناکارہ
04/September/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
ایرانی حکومت کا خاتمہ اسرائیل کا اہم ہدف، نظام کمزور ہوچکا ہے، جلد گرا سکتے ہیں: نیتن یاہو
04/September/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
کوئٹہ کینٹ میں پولیس اہلکاروں کے داخلے پر مبینہ پابندی ، کینٹ پاس طلب
03/September/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، اسلحہ برآمد
03/September/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
اپر اورکزئی : نامعلوم افراد کی فائرنگ جے یو آئی رہنما ہلاک
03/September/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
یمن: تعز میں شدید لڑائی، حوثی باغیوں کی کئی محاذوں پر پیش قدمی، حکومتی فورسز کا جوابی حملہ
03/September/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26272 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15520 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11801 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9099 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7386 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5064 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C