25/February/2026

یوکرینی جنگ کی برسی پر برطانیہ کا روس پر بڑا وار، 300 نئی پابندیاں عائد

👁️ 242 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یوکرینی جنگ کی برسی پر برطانیہ کا روس پر بڑا وار، 300 نئی پابندیاں عائد

یوکرینی جنگ کی برسی پر برطانیہ کا روس پر بڑا وار، 300 نئی پابندیاں عائد

کییف (ڈیلی اردو) یوکرین پر روسی  حملے کی برسی کے موقع پر، جب برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کییف کے دورے پر تھیں، لندن حکومت نے تقریباً 300 نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔

 

اس کے ساتھ ہی یوکرینی جنگ کے دوران برطانیہ کی جانب سے ہدف بنائی جانے والی روسی کمپنیوں اور افراد کی مجموعی تعداد بھی 3,000 سے تجاوز کر گئی۔

 

نئے اقدامات میں روس کی سرکاری کنٹرول میں چلنے والی پائپ لائن آپریٹر کمپنی ٹرانس نیفٹ کے اثاثے منجمد کرنا بھی شامل ہے۔ برطانوی حکومت نے کہا کہ تیل کا شعبہ روسی حکومت کے لیے ’’اسٹریٹیجک اہمیت‘‘ رکھتا ہے۔

 

برطانوی حکومت کے مطابق ٹرانس نیفٹ ماسکو کی 80 فیصد سے زائد تیل برآمدات کا انتظام سنبھالتی ہے۔ اسے 2014 میں روس کی جانب سے کریمیا کے زبردستی الحاق کے بعد سے مغربی پابندیوں کا سامنا ہے۔

 

برطانیہ نے روس کے ’’غیر قانونی تیل تاجروں کے خفیہ جال‘‘ کے خلاف بھی کارروائی کی اور ان بڑے شیڈو فلیٹ آپریٹرز میں سے ایک کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، جو بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل کی ترسیل کرتے تھے۔

 

برطانیہ نے کہا کہ نئی پابندیوں کا پیغام واضح ہے، ’’روسی تیل اب مارکیٹ سے باہر ہے۔‘‘

 

تاہم منگل کو فن لینڈ کے ایک تھنک ٹینک کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ روس یوکرین پر حملے سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں تیل برآمد کر رہا ہے اور زیادہ تر تیل چین، بھارت اور ترکی کو بھیج رہا ہے۔

 

برطانوی حکومت نے فوجی ساز و سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ روس کے سول نیوکلیئر توانائی پروگرام اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی صنعت کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے ہیں۔

 

اس نے جارجیا کے دو ٹیلی وژن چینلز کو بھی غلط روس نواز معلومات پھیلانے پر ہدف بنایا۔

نئی پابندیوں کی زد میں آنے والے دونوں چینلز، امیڈی ٹی وی اور پوس ٹی وی، کو عام طور پر حکومتی ترجمان سمجھا جاتا ہے جو حکمران جماعت جارجیئن ڈریم کی حمایت کرتے ہیں۔ اس جماعت پر روس کی طرف جھکاؤ اور یورپی یونین میں شمولیت کی جارجیا کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

 

برطانیہ کے مطابق یہ چینلز باقاعدگی سے دعویٰ کرتے ہیں کہ یوکرین مغرب کی ’’کٹھ پتلی‘‘ ہے اور وہ صدر وولودیمیر زیلنسکی کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہیں۔

 

ان دونوں چینلز نے اپنے خلاف پابندیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

 

فیس بک پر جاری کردہ ایک بیان میں امیڈی ٹی وی نے کہا کہ یہ پابندیاں ’’کسی بھی طرح کی اہمیت نہیں رکھتیں،‘‘ جبکہ سرکاری ملکیتی چینل پوس ٹی وی نے اسی پلیٹ فارم پر دو مسکراتی ہوئے ایموجیز کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C