05/September/2026

آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائی، 3 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ

👁️ 63 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائی، 3 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ

آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائی، 3 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل حملے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین ایرانی آئل ٹینکرز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز نے خارگ جزیرے کے قریب ایرانی کروڈ آئل ٹینکر ایم ٹی ڈاؤنی، جاسک کے قریب ایم ٹی اسٹارک ون اور خلیج عمان میں موجود ایک خالی ایرانی ٹینکر ایم ٹی کائلو کو کارروائی کا نشانہ بنایا۔

امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل متعلقہ ٹینکرز کے عملے کو جہاز خالی کرنے کی ہدایت دی گئی، جس کے بعد جہازوں کے اہم حصوں کو نشانہ بنا کر انہیں ناکارہ کیا گیا۔

سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ یہ تینوں ٹینکرز ایران کے اس مبینہ ’شیڈو نیٹ ورک‘ کا حصہ تھے جس کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب اور خطے میں اس کی حمایت کرنے والی تنظیموں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق ایران نے 5 ستمبر کو سمندر میں موجود امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ امریکی بیان میں کہا گیا کہ ان جہازوں میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر شامل تھا۔

سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی کارروائی ایران کے لیے واضح پیغام ہے کہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صورت میں واشنگٹن جوابی کارروائی کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود تیل بردار بحری بیڑے کے خلاف مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ہفتے کے روز خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق ٹینکر پر چار میزائل داغے گئے تھے۔

ایرانی ذرائع نے بتایا کہ حملے کے وقت ٹینکر سے تیل منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور عملے کی صورتحال سے متعلق فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

رائٹرز نے اس سے قبل ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے بتایا تھا کہ خلیج کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

خارگ جزیرہ ایران کے لیے انتہائی اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔ جنگ سے قبل ایران اپنی خام تیل کی بڑی مقدار، تقریباً 90 فیصد برآمدات، اسی جزیرے کے ذریعے بیرون ملک بھیجتا تھا۔

ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز بھی مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل کی تقریباً پانچویں مقدار اسی اہم سمندری راستے سے گزرتی تھی۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔

ایرانی حکام ماضی میں خبردار کرچکے ہیں کہ خارگ جزیرے کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C