05/September/2026

کابل: شیعہ دینی مرکز خاتم النبیین طالبان کے گھیرے میں، طلبہ کے انخلا کا مطالبہ

👁️ 57 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کابل:  شیعہ دینی مرکز خاتم النبیین طالبان کے گھیرے میں، طلبہ کے انخلا کا مطالبہ

کابل: شیعہ دینی مرکز خاتم النبیین طالبان کے گھیرے میں، طلبہ کے انخلا کا مطالبہ

کابل(ڈیلی اردو) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شیعہ برادری کے معروف دینی و تعلیمی مرکز خاتم النبیین کو طالبان فورسز کی جانب سے گھیرے میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مرکز میں موجود طلبہ کو عمارت خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

کابل سے موصولہ مقامی اطلاعات کے مطابق طالبان کی وزارت عدلیہ سے وابستہ مسلح اہلکار ہفتے کے روز خاتم النبیین مدرسے کے اطراف پہنچے اور علاقے میں سکیورٹی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان اہلکاروں نے مرکز کے محافظوں کو غیر مسلح کرنے کے بعد مدرسے کے احاطے میں داخل ہوکر طلبہ کی آمدورفت بھی محدود کردی۔

ذرائع کے مطابق طالبان اہلکاروں کی بڑی تعداد فوجی گاڑیوں اور مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کے ساتھ مرکز کے اندر اور باہر موجود ہے۔ مدرسے میں موجود بعض طلبہ کو باہر جانے کی اجازت نہ دینے جبکہ باہر موجود افراد کو اندر داخل ہونے سے روکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق طالبان اہلکار اس وقت دینی مرکز کے اساتذہ اور انتظامیہ سے بات چیت کررہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا اور مرکز کو مکمل طور پر بند یا خالی کرانے کے حوالے سے طالبان کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خاتم النبیین سے وابستہ متعدد ادارے پہلے ہی طالبان کے اقدامات کی زد میں آچکے ہیں۔ رواں سال طالبان کی وزارت عدلیہ نے مدرسے کے مسجد، حسینیہ، کتب خانے، دارالقرآن اور طلبہ و طالبات کے تعلیمی حصوں کو بند اور سیل کیا تھا، تاہم مدرسے کا ہاسٹل کھلا رہا اور طلبہ وہاں رہائش پذیر ہوکر اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی کے ذریعے ہاسٹل کو بھی بند کرنے اور پورے تعلیمی مرکز کا انتظام اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خاتم النبیین مدرسہ، خاتم النبیین یونیورسٹی اور تمدن ٹی وی ایک ہی تعلیمی، مذہبی اور میڈیا نیٹ ورک سے منسلک ادارے ہیں، جن کی بنیاد معروف شیعہ عالم محمد آصف محسنی نے رکھی تھی۔ طالبان اس سے قبل تمدن ٹی وی کی نشریات بھی بند کرچکے ہیں اور اس کے دفتر کو سیل کیا جاچکا ہے۔

طالبان کی وزارت عدلیہ ماضی میں ان اداروں سے متعلق زمین کی ملکیت پر اعتراضات اٹھاتی رہی ہے اور بعض اراضی کو سرکاری ملکیت قرار دے چکی ہے۔ دوسری جانب اداروں کے منتظمین کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے پاس زمین کی ملکیت سے متعلق شرعی اور قانونی دستاویزات موجود ہیں اور معاملے پر حتمی عدالتی فیصلہ بھی سامنے نہیں آیا۔

تازہ محاصرے کے حوالے سے طالبان حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ دینی مرکز کے طلبہ اور انتظامیہ کے مستقبل کے حوالے سے بھی صورتحال بدستور غیر واضح ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C