18/June/2026

اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے

👁️ 115 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے

اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے

بیروت (ڈیلی اردو/اے ایف پی) اسرائیلی فوج نے بدھ 17 جون کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں امن ڈیل کے باوجود جنوبی لبنان پر کئی نئے فضائی حملے کیے۔ لبنانی ریاستی میڈیا کے مطابق یہ حملے ایران جنگ میں اس امن معاہدے کے باوجود کیے گئے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

 

لبنان کے دارالحکومت بیروت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کی اس ہمسایہ ریاست کی سرکاری نیوز ایجنسی این این اے نے بتایا اسرائیلی جنگی طیاروں کی مدد سے یہ تازہ حملے جنوبی لبنان میں نبطیہ الفوقا نامی علاقے اور اس کے نواح میں کفر تبنیت نامی قصبے کے مشرقی مضافات میں مختلف اہداف پر کیے گئے۔

 

فرانسیسی خبر رساں ا دارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ اس دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے جنوبی لبنان ہی میں زہرانی نامی خطے میں انصاریہ کے قصبے پر ایک مسلح ڈرون سے بھی حملہ کیا گیا۔

 

بیروت سے مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ نئے اسرائیلی حملے ایسے وقت پر کیے گئے ہیں، جب ایران جنگ میں امریکہ اور ایران کے مابین ایک امن معاہدے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، اور ایران اور لبنان کے مطابق اس معاہدے میں لبنان جنگ میں فوری فائر بندی بھی شامل ہے۔

 

امریکہ، ایران اور ان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرنے والے ملک پاکستان کی طرف سے پیر کے روز جس امریکی ایرانی امن معاہدے پر اتفاق رائے کا اعلان کیا گیا تھا، اس پر جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جانا ہیں۔

 

اس معاہدے کے اعلان کے بعد لبنان میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیاں رک گئی تھیں، مگر آج بدھ کے دن جنوبی لبنان پر نئے اسرائیلی فضائی حملوں نے اس امن معاہدے کی عملی کامیابی کے امکانات سے متعلق کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

 

جنوبی لبنان اور بیروت میں اسرائیلی فوج کی طرف سے گزشتہ چند ماہ سے جو مسلسل مسلح کارروائیاں کی جا رہی تھیں، ان کی وجہ سے وہاں اب تک تین ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

 

امریکی ایرانی امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد کئی بے گھر لبنانی شہریوں کو یہ امید ہو چلی تھی کہ اب لبنان جنگ ختم ہو سکتی ہے، اس لیے انہوں نے واپس ان علاقوں میں اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا تھا، جہاں سے وہ اسرائیلی حملوں کے باعث یا اسرائیلی فوج کی طرف سے انخلا کی تنبیہات کے بعد رخصت ہو گئے تھے۔

 

ایسے لبنانی باشندوں کو اب ملکی فوج نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنے سابقہ رہائشی علاقوں میں واپسی سے گریز کریں، کیونکہ ’’اسرائیل کی طرف سے خلاف ورزیوں اور حملوں کا خطرہ‘‘ ابھی تک موجود ہے۔

 

لبنان جنگ مارچ کے اوائل میں اس وقت شروع ہوئی تھی، جب ایران جنگ شروع ہونے کے چند ہی روز بعد لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے بھی تہران کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کر دیے تھے۔

 

ان حملوں کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان اور بیروت میں حزب اللہ کے خلاف وسیع تر زمینی اور فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔

 

امریکہ اور ایران کے مابین اتفاق کردہ لیکن ابھی تک غیر دستخط شدہ امن معاہدے کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ابھی کل منگل کے روز ہی کہا تھا کہ اس ڈیل کے تحت اسرائیلی فوج کو وہ تمام علاقے خالی کرنا ہوں گے، جن پر اس نے جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا اور جو ابھی تک جاری ہے۔

 

عباس عراقچی کے الفاظ میں، ’’(ایران جنگ) تنازعے کا خاتمہ اس وقت تک نامکمل رہے گا، جب تک اسرائیلی افواج ان تمام علاقوں سے واپس نہیں چلی جاتیں، جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C