18/June/2026

ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ

👁️ 91 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ

ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ

پیرس (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر جلد دستخط کیے جا سکتے ہیں، جبکہ انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت ردعمل اور ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

 

جی سیون اجلاس کے موقع پر فرانسیسی تعطیلاتی مقام ایویاں لے باں میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کیا کہ اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی گئی تو امریکہ کی جانب سے سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ 

 

ان کے مطابق ایران پر دوبارہ بمباری بھی کی جا سکتی ہے۔

 

ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کوئی قابلِ نفاذ (enforceable) شق موجود ہے، ٹرمپ نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 

 

ان کے مطابق انہوں نے ایران کو واضح طور پر پیغام دے دیا ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو “جہنم برپا کر دیا جائے گا”۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں فوجی کارروائی بھی ایک قابلِ عمل راستہ ہو سکتا ہے۔

 

ٹرمپ کے مطابق ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ ہی ان کی تیاری کرے گا۔ ان کے بقول اس شق کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ایران کو دیگر ممالک سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے بھی روکتی ہے۔

 

امریکی صدر نے بتایا کہ معاہدے کی ایک کاپی اسرائیل کو بھی بھیجی گئی ہے، جسے انہوں نے “اچھا شراکت دار” قرار دیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل بعض معاملات میں، خصوصاً حزب اللہ کے حوالے سے، بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔

 

ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے تعلقات پر بات چیت جاری ہے اور اس معاہدے پر دستخط “کل یا ممکن ہے اس کے اگلے دن” کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ دستخط جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔

 

انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار کی طرف لے جانے کا راستہ تھا۔

 

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم فراہم نہیں کرے گا۔ انہوں نے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ تعمیر نو فنڈ سے متعلق رپورٹس کو “جھوٹی خبر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم انہیں کچھ بھی نہیں دیتے”۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ مذاکرات میں خلیجی ممالک بھی شامل ہوں گے، اور بات چیت کا مرکز ایران کے میزائل پروگرام سمیت دیگر غیر جوہری امور ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران کو محدود پیمانے پر بیلسٹک میزائل رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے کیونکہ دیگر ممالک کے پاس بھی ایسے ہتھیار موجود ہیں۔

 

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ ایران کو کسی بھی قسم کے میزائل رکھنے سے روکا جائے، لیکن ان کے بقول “معاملات اس طرح آگے نہیں بڑھتے”۔

 

لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر امریکہ کو کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ یہ معاہدہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے امن معاہدے کا آغاز ثابت ہوگا، تاہم ان کے مطابق اصل توجہ ایران کے ساتھ معاہدے پر ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C