18/June/2026

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان

👁️ 139 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان

سیول/پیانگ یانگ(ڈیلی اردو/ڈی پی اے) جزیرہ نما کوریا کی ریاست جنوبی کوریا کمیونسٹ شمالی کوریا کے ساتھ سرحد سے ملحقہ اپنا سکیورٹی بفر زون محدود کر کے وہاں اب تک عائد سخت پابندیوں میں نرمی کر دے گی۔

 

تقریباً 270 مربع کلومیٹر پر محیط اس جنوبی کوریائی سرحدی علاقے میں مقامی کسانوں کو برسوں سے یہ شکایت تھی کہ اس سکیورٹی بفر زون کے باعث انہیں اپنے کام کاج کے حالات میں مسلسل شدید مسائل کا سامنا رہتا تھا۔

 

عشروں پہلے کی کوریائی جنگ کے بعد سے یہ دونوں حریف ریاستیں آج تک تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہیں، کیونکہ ان کے درمیان ماضی میں صرف فائر بندی ہوئی تھی اور کوئی باقاعدہ جنگ بندی یا امن معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔

 

جنوبی کوریا میں عشروں سے بڑی تعداد میں امریکہ کے فوجی دستے بھی تعینات ہیں جبکہ دوسری طرف چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا حلیف ملک ہے۔

 

جزیرہ نما کوریا کی ان دونوں حریف لیکن ہمسایہ اور مختلف سیاسی نظاموں والی ریاستوں کے مابین ایک غیر فوجی علاقہ بھی ہے، جو ڈی ایم زیڈ کہلاتا ہے۔

 

اس پس منظر میں سیول میں جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کی طرف سے بدھ 17 جون کے روز کہا گیا کہ سکیورٹی بفر زون میں عام کسانوں اور مقامی باشندوں کو 2027ء کے آغاز سے مزید کچھ ممنوعہ اور فوجی علاقے تک عام رسائی حاصل ہو جائے گی۔

 

وزارت دفاع کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا، ’’اگلے سال کے شروع سے دونوں ممالک کے مابین سویلین کنٹرول لائن یا سی سی ایل کہلانے والی لکیر سے جڑا اور فوجی انتظام والا بفر زون کا علاقہ جنوب کی طرف سے 10 کلومیٹر (6.2 میل) سے کم کر کے اوسطاﹰ چھ کلومیٹر کر دیا جائے گا۔‘‘

 

جنوبی کوریائی وزیر دفاع آن گیو باک نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’ماضی میں سی سی ایل والے علاقے کا تعین اس مقصد کے تحت کیا گیا تھا کہ وہاں عام شہریوں کی رسائی محدود کر دی جائے اور یہ خطہ بلا رکاوٹ عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکے۔ لیکن حکومت کو ایسے زیادہ سے زیادہ مطالبات بھی سننے کو مل رہے تھے کہ اس زون کا نئے سرے سے تعین کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

 

ساتھ ہی وزیر دفاع نے کہا، ’’اب حکومت نے سویلین کنٹرول لائن کو ایڈجسٹ کرنے کا ایک ایسا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد عملی فیصلوں کو سلامتی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے، اور وہ بھی اس پس منظر میں کہ کم ہوتی ہوئی عسکری افرادی قوت کے باوجود ملٹری آپریشنل شرائط پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

 

اب تک نافذ ملکی قوانین کے تحت جنوبی کوریائی باشندوں کو اس سکیورٹی بفر زون میں رہنے یا وہاں کھیتی باڑی کے لیے ملکی فوج کی طرف سے قبل از وقت خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔

 

وزیر دفاع آن گیو باک کے الفاظ میں، ’’ہم اس خطے میں بہتر علاقائی ترقی کو اس طرح یقینی بنائیں گے کہ اس وجہ سے فوجی کارروائیوں کے لیے مکمل تیاری کی ملکی حالت پر بھی کوئی مننفی اثر نہ پڑے۔‘۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C