04/November/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہینِ مذہب کیس میں سزا یافتہ شخص کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

👁️ 47 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہینِ مذہب کیس میں سزا یافتہ شخص کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہینِ مذہب کیس میں سزا یافتہ شخص کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد (ڈیلی اردو) اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ مذہب اور انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت مجموعی طور پر 15 سال قید کی سزا پانے والے ایک شخص کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کی طویل عرصے تک سماعت نہ ہونا ملزم کے قانونی حقوق کے حوالے سے اہم معاملہ ہے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو ٹرائل کورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں 10 سال جبکہ انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت مزید 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اسے سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو ایک مبینہ منصوبہ بندی کے تحت مقدمے میں ملوث کیا گیا۔ ان کے مطابق شکایت کنندہ نے اجازت کے بغیر ان کی ویڈیو ریکارڈ کی، جسے مبینہ طور پر اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا اور اس بنیاد پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا گیا۔

دفاعی وکیل کے مطابق ملزم نے ٹرائل کورٹ میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شاعر جوش ملیح آبادی کے اسلوب میں قرآن کی تشریح اور مفہوم بیان کر رہے تھے، تاہم ان کی گفتگو کو توہینِ مذہب کے طور پر پیش کیا گیا۔

سماعت کے دوران جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تفتیشی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تفتیشی ٹیم کو مقدمے کے تمام پہلوؤں اور حقائق کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر تحقیقات مکمل کرنی چاہیے تھیں، لیکن بظاہر ایسا نہیں کیا گیا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے مزید ریمارکس میں کہا کہ توہینِ مذہب کے مقدمات کے اندراج سے متعلق ان کے زیرِ سماعت بعض درخواستوں میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ اور نجی افراد کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے معاملات بھی سامنے آئے تھے۔

درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں سپریم کورٹ کے جاوید ہاشمی مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظیر کے مطابق اگر کسی سزا یافتہ شخص نے اپنی سزا کا نصف عرصہ جیل میں گزار لیا ہو اور اس کی اپیل طویل عرصے تک سماعت کے لیے مقرر نہ ہو تو اسے ضمانت دینے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواستِ ضمانت منظور کرلی۔ تاہم مقدمے کے مدعی نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ اس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ ہر مقدمے کی نوعیت اور حالات مختلف ہوتے ہیں اور یہ متعلقہ جج کی صوابدید ہے کہ وہ کسی معاملے میں وکلا کو کتنا وقت دے کر سنتا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ شخص کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے 2017ء میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے خلاف توہینِ مذہب اور انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے توہینِ مذہب کے الزام میں 10 سال اور انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C