29/August/2026

افریقہ میں حوثی باغیوں کا اسمگلنگ نیٹ ورک پھیلنے کا انکشاف، بحری راستوں کو خطرات لاحق

👁️ 85 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افریقہ میں حوثی باغیوں کا اسمگلنگ نیٹ ورک پھیلنے کا انکشاف، بحری راستوں کو خطرات لاحق

افریقہ میں حوثی باغیوں کا اسمگلنگ نیٹ ورک پھیلنے کا انکشاف، بحری راستوں کو خطرات لاحق

صنعاء(ڈیلی اردو) یمن کے حوثی باغیوں کی اسمگلنگ سرگرمیوں کے دائرہ کار کے افریقہ تک پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یمنی اور علاقائی سکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران حوثی باغی مقامی مسلح گروہ سے ایک ایسے نیٹ ورک میں تبدیل ہوئے ہیں جو خطے کے مختلف حصوں میں اسلحے اور دیگر فوجی سازوسامان کی ترسیل کے لیے پیچیدہ راستے استعمال کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں نے ایران نواز حزب اللہ کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یمن سے باہر اپنے اثر و رسوخ اور وسائل کے ذرائع کو وسعت دی۔ اس سلسلے میں افریقہ کا شاخِ افریقہ کا خطہ خاص طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں صومالیہ اور سوڈان سمیت مختلف علاقوں میں اسلحے کی مبینہ اسمگلنگ کے راستے موجود ہیں۔

ایک سینئر یمنی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق افریقہ میں حوثی باغیوں کی سرگرمیاں صرف اسلحہ حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ مبینہ طور پر وہاں اسلحہ کی ترسیل اور فروخت کے ساتھ ساتھ ایرانی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق افریقہ میں موجودگی حوثی باغیوں کی موجودہ سپلائی چین کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثی باغی اپنی فوجی اور لاجسٹک ضروریات پوری کرنے کے لیے بحیرہ عرب، خلیج عدن اور بحیرہ احمر سے گزرنے والے پیچیدہ سمندری و زمینی راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ان ذرائع سے اسلحہ، ڈرونز کے پرزے، بیلسٹک میزائلوں سے متعلق اجزا اور بحری صلاحیتوں کے لیے ٹیکنالوجی و آلات حاصل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

صومالیہ میں مبینہ روابط

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثی باغیوں اور صومالی مسلح تنظیم الشباب کے درمیان 2024 کے دوران رابطے ہوئے۔ اقوام متحدہ کی 2025 کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ دونوں فریقوں کے نمائندوں کے درمیان صومالیہ میں ملاقاتیں ہوئیں، جن میں مبینہ طور پر حوثیوں کی جانب سے الشباب کو اسلحہ اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے بدلے بحری قزاقی اور یرغمال بنائے گئے بحری جہازوں سے تاوان وصول کرنے سے متعلق تعاون پر بات ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق بعض ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان تعاون کے نتیجے میں بحری راستوں کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی ہوسکتی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں سے متعلق تفصیلات مختلف رپورٹس اور ذرائع کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔

سوڈان تک مبینہ توسیع

سوڈان میں جاری جنگ کے تناظر میں بھی حوثی باغیوں کے مبینہ کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے سوڈانی فوج کے دفاعی صنعتی ادارے کو ’’سفاروق‘‘ نامی حملہ آور ڈرون کی تیاری میں مدد فراہم کی۔ رپورٹ میں اس ڈرون کو ایرانی ساختہ ’’ابابیل-ٹی‘‘ اور حوثیوں کے زیر استعمال ’’قاصف-2K‘‘ سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے بعض تارکین وطن کو اسمگلنگ، جاسوسی اور جنگی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ ماہرین کے مطابق افریقہ کے شاخِ افریقہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں حوثی سرگرمیوں کا پھیلاؤ خطے میں ایران نواز مسلح نیٹ ورکس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C