افغانستان میں شیعہ برادری پر پابندیاں، طالبان پر عبادات اور مذہبی امور میں مداخلت
👁️ 278 بار دیکھا گیا
افغانستان میں شیعہ برادری پر پابندیاں، طالبان پر عبادات اور مذہبی امور میں مداخلت
کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک سینئر شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان حکام نے انہیں عارضی نکاح کے معاملے پر طلب کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور مذہبی امور سے متعلق سخت دباؤ ڈالا۔
آیت اللہ شریفی نے 15 مئی کو ایک خطاب میں دعویٰ کیا کہ طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے انہیں تفتیش کے لیے طلب کیا، جہاں انہیں مارا پیٹا گیا اور شیعہ برادری کے مذہبی معاملات پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
ان کے مطابق انہیں اور دیگر شیعہ علما کو تحریری ضمانتیں دینے پر مجبور کیا گیا کہ وہ عارضی نکاح (نکاح المتعہ) کا انعقاد نہیں کریں گے، بصورت دیگر قید کی وارننگ دی گئی۔
شریفی نے الزام لگایا کہ طالبان اہلکار سڑکوں پر ہزارہ شیعہ جوڑوں کو بھی حراست میں لے رہے ہیں اور ان پر عارضی نکاح کے شبہ میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی ہیں اور طالبان سے اپیل کی کہ کم از کم نجی مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔
شیعہ عالم کے مطابق انہیں کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لیے بغیر صرف مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب طالبان حکومت پر افغانستان میں مختلف مذہبی اقلیتوں، بالخصوص شیعہ برادری، کے ساتھ سلوک کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور افغان میڈیا میں مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بیرون ملک قائم افغان میڈیا اداروں کے مطابق اس معاملے پر مختلف رپورٹس اور بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم طالبان حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی واضح اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
افغانستان میں تقریباً 20 فیصد آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ ماضی کی حکومت کے دوران شیعہ پرسنل اسٹیٹس قانون کے تحت ان کے خاندانی معاملات کو قانونی تحفظ حاصل تھا۔
طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سابق آئینی ڈھانچہ معطل کر دیا گیا ہے، اور انتظامی و قانونی نظام میں حنفی فقہ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مذہبی اختلافات اور فقہی تنوع کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
شیعہ علما اور بعض انسانی حقوق کے گروہ طالبان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مذہبی رسومات، تعلیمی نصاب اور عبادات کے معاملات میں پابندیاں عائد کر رہے ہیں، جبکہ طالبان ان اقدامات کو امن و امان اور سکیورٹی کے تقاضوں سے جوڑتے ہیں۔
تاہم اس تازہ الزام کے بعد افغانستان میں مذہبی آزادیوں اور شیعہ برادری کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان : پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں کا حملہ، جوابی کارروائی میں 3 حملہ آور ہلاک
04/September/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
قلات : سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 12 دہشتگرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ
04/September/2026 👁️ 34 بار دیکھا گیا
بنوں : ڈومیل میں سیکیورٹی آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک، 4 آئی ای ڈیز ناکارہ
04/September/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
ایرانی حکومت کا خاتمہ اسرائیل کا اہم ہدف، نظام کمزور ہوچکا ہے، جلد گرا سکتے ہیں: نیتن یاہو
04/September/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
کوئٹہ کینٹ میں پولیس اہلکاروں کے داخلے پر مبینہ پابندی ، کینٹ پاس طلب
03/September/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، اسلحہ برآمد
03/September/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26274 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15522 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11802 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9099 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7388 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5064 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C