04/June/2026

امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے سیزفائر کی تجدید کر دی

👁️ 250 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے سیزفائر کی تجدید کر دی

امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے سیزفائر کی تجدید کر دی

واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے ایف پی) فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی جب بدھ کی صبح سرحد پار حملے جاری رہے۔ حزب اللہ نے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں کم از کم نو اموات ہوئیں۔

 

اگرچہ ابتدائی فائر بندی اپریل کے آغاز میں طے پائی تھی، تاہم اسرائیل اور لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ مسلسل جاری رہا تھا۔

 

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق مارچ میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 3,300 سے زائد افراد ہلاک اور 10,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

 

امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے اس نئے فائر بندی معاہدے کے تحت حزب اللہ جنوبی لبنان میں قائم کیے جانے والے سکیورٹی زونز سے انخلا کرے گی۔

 

اسرائیل اور لبنان کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فائر بندی کا انحصار ’’حزب اللہ کی جانب سے مکمل طور پر فائرنگ کے خاتمے اور دریائے لیطانی کے جنوب سے حزب اللہ کے تمام ارکان کے انخلا‘‘ پر ہو گا۔

 

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ لبنانی فوج کے زیر انتظام یہ سکیورٹی زونز کس طریقہ کار کے تحت قائم کیے جائیں گے۔

 

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا: ’’یہ اقدامات ایک جامع امن اور سلامتی کے معاہدے کی جانب پیش رفت کو ممکن بنائیں گے۔‘‘

 

ایران، جو حزب اللہ کا حامی ہے، اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی امن معاہدے میں لبنان جنگ کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے۔ تاہم حزب اللہ کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا۔

 

اس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ لبنان کے تنازعے پر ہونے والے مذاکرات کو ایران جنگ سے متعلق بات چیت سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔

 

بیان میں مزید کہا گیا، ’’تمام ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ اسرائیل اور لبنان کے تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ صرف دونوں خود مختار ممالک کی حکومتیں کریں گی۔ انہوں نے کسی بھی ریاست یا غیر ریاستی فریق کی جانب سے لبنان کے مستقبل کو یرغمال بنانے کی کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔‘‘

 

بیان میں ایران اور حزب اللہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا، ’’اسرائیل اور لبنان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف کوئی دشمنانہ ارادہ نہیں ہے، اور دونوں ممالک اعتماد سازی، باقی ماندہ مسائل کے حل اور جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے براہ راست مذاکرات جاری رکھیں گے۔‘‘

 

بیان کے مطابق دونوں فریق 22 جون کو مزید مذاکرات کریں گے تاکہ کسی ’جامع معاہدے‘ تک پہنچا جا سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C