21/January/2026

بلوچستان میں دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار افراد کیلئے حراستی مراکز کے رولز منظور

👁️ 169 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار افراد کیلئے حراستی مراکز کے رولز منظور

بلوچستان میں دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار افراد کیلئے حراستی مراکز کے رولز منظور

کوئٹہ (ڈیلی اردو ) پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی کابینہ نے بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم رولز 2025 کی منظوری دے دی۔

 

ان رولز کی منظوری کے بعد بلوچستان میں حراستی مراکز قائم کیے جا سکیں گے جہاں سکیورٹی اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے شبہے میں پکڑے گئے مشتبہ افراد کو رکھا جائے گا۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے مطابق کوئٹہ اور تربت میں ایسے دو حراستی مراکز قائم کیے جائیں گے۔

 

خیال رہے کہ بلوچستان کی کابینہ کا 22واں اجلاس سوموار کے روز سے جاری ہے جبکہ آج صبح اس قانون کے متعلق وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری کیا ہے۔

وزیراعلی بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کابینہ نے مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا ہے۔

 

اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ’مختلف لوگ لاپتہ افراد کے معاملے پر سیاست کرتے ہیں لیکن ہم نے یہ پروپیگنڈا مستقل بنیادوں پر دفن کر دیا ہے۔‘

 

وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشتبہ افراد سے تفتیشی مراکز میں مجاز پولیس افسر کی نگرانی میں تفتیش کی جائے گی جبکہ مشتبہ افراد کے گھر والوں کو ان سے ملاقات کی اجازت ہو گی۔

 

سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ نے بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائیزیشن رولز 2025 اور بلوچستان وٹنس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی کے مقامات میں مدعیان اور گواہان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اہم قوانین اور رولز کی منظوری بلوچستان کابینہ کی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘

 

کابینہ کے دیگر فیصلے

 

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ کابینہ نے بلوچستان میں دو نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان کے قیام کی منظوری دے دی۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق، زیارت انتظامی طور پر لورالائی کا حصہ ہوگا۔

 

اس کے علاوہ بلوچستان کابینہ نے چائلڈ لیبر سے متعلق اہم فیصلہ لیتے ہوِے 16 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت نہیں کرائی جا سکے گی۔

 

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نے محکمہ ہائیر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو لازمی سروسز قرار دے دیا جبکہ بلوچستان بھر میں کنٹریکٹ پر بھرتی اساتذہ کی تعلیمی اسناد تصدیق کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو ڈگریوں کی تصدیق کا کام سونپ دیا ہے۔ جعلی ڈگری ہولڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C