01/February/2026

بلوچستان میں 3 خودکش حملوں کے بعد کوئٹہ سمیت 12 شہروں میں 91 افراد ہلاک

👁️ 367 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں 3 خودکش حملوں کے بعد کوئٹہ سمیت 12 شہروں میں 91 افراد ہلاک

بلوچستان میں 3 خودکش حملوں کے بعد کوئٹہ سمیت 12 شہروں میں 91 افراد ہلاک

کوئٹہ (ڈیلی اردو رہورٹ) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت 12 شہروں میں ہونے والے حملوں میں اب تک کم از کم 37 شدت پسند، 10 اہلکار اور 17 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

 

سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہفتے کو جوابی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 67 تک پہنچ گئی۔

 

ذرائع کے مطابق گذشتہ روز پنجگور اور شابان میں مختلف کارروائیوں میں 41 شدت پسند ہلاک کیے گئے، جس کے بعد دو روز میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی مجموعی تعداد 108 ہو گئی۔

 

کوئٹہ کے ریڈ زون میں ہونے والے خودکش دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ اس حملے میں 9 پولیس اہلکار ہلاک اور تقریباً 17 افراد زخمی ہوئے۔ دالبندین اور پسنی میں بھی خودکش حملوں میں متعدد اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد سیکیورٹی اہلکار یرغمال بنا لیے ہیں۔

 

مقامی پولیس کے مطابق خاران میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر حملے میں شاہد گل سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، اور ان کے گھر اور گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔

 

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ گوادر میں ہونے والے حملے میں خضدار سے تعلق رکھنے والے خاندان کے 11 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔

 

حکومت کا دعویٰ ہے کہ دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔

 

کالعدم علیحدگی پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں ہفتے کے دن کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز ہوا اور دہشت گردوں نے سریاب روڈ اور ہزار گنجی سے لے کر ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک کے علاقوں میں کارروائیاں کیں، جہاں ایک زوردار دھماکہ بھی ہوا۔

 

مستونگ جیل پر حملے کے دوران 27 قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، جبکہ نوشکی میں ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزاره کو یرغمال بنایا گیا تھا، لیکن دس گھنٹوں کے بعد انہیں بحفاظت بازیاب کروا دیا گیا۔

 

بلوچستان کے ضلع پسنی میں ایک خاتون خودکش حملہ آور نے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے دفتر پر حملہ کیا، تاہم حکام نے نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

بلوچستان کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر، پنجاب حکومت نے پنجاب–بلوچستان سرحدی راستہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C