30/September/2026

بڈگام میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر ہاشم موسیٰ ہلاک، مشترکہ آپریشن جاری

👁️ 50 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بڈگام میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر ہاشم موسیٰ ہلاک، مشترکہ آپریشن جاری

بڈگام میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر ہاشم موسیٰ ہلاک، مشترکہ آپریشن جاری

سرینگر(ڈیلی اردو) بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک مسلح جھڑپ میں لشکر طیبہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق مارے گئے شخص کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر ہوئی ہے، جسے مختلف بھارتی ذرائع میں موسیٰ، موسیٰ فوزی یا آصف فوزی کے نام سے بھی بیان کیا گیا ہے۔

بھارتی فوج کے مطابق کارروائی بڈگام کے یوسمرگ کے قریب کورگ کے علاقے میں مخصوص انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر شروع کی گئی۔ فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے مشترکہ طور پر سرچ آپریشن کیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ نقل و حرکت دیکھنے کے بعد مبینہ طور پر مسلح افراد کو چیلنج کیا، جس پر فائرنگ شروع ہوگئی اور فریقین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ بعد ازاں تلاشی کے دوران ہلاک شخص کی لاش اور جنگی نوعیت کا سامان برآمد ہونے کی اطلاع دی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ہاشم موسیٰ کو پیر پنجال کے دونوں جانب کئی حملوں کے سلسلے میں مطلوب قرار دیا گیا تھا۔ بھارتی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کی تلاش میں تھا اور اس سے قبل بھی یوسمرگ کے پہاڑی علاقوں میں کارروائی کے دوران بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق موسیٰ اور اس کے ایک ساتھی یاسر کے خلاف پیر پنجال کے علاقے میں طویل عرصے سے کارروائیاں جاری تھیں اور یاسر ستمبر کے اوائل میں یوسمرگ کے بالائی علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہوچکا تھا۔

بھارتی ذرائع نے ہاشم موسیٰ کو سابق پاکستانی فوجی کمانڈو بھی قرار دیا ہے۔ این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان فوج کے اسپیشل سروسز گروپ سے وابستہ رہ چکا تھا اور بعد ازاں لشکر طیبہ میں شامل ہوا۔ تاہم اس حوالے سے دستیاب معلومات زیادہ تر بھارتی سکیورٹی ذرائع اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔

بھارتی میڈیا کی بعض رپورٹس میں ہاشم موسیٰ کو 2025 کے پہلگام حملے سے بھی جوڑا گیا تھا، تاہم اس نسبت میں مختلف اوقات میں متضاد معلومات سامنے آتی رہی ہیں۔ بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی دسمبر 2025 کی چارج شیٹ میں پہلگام حملے میں ہلاک کیے گئے تین حملہ آوروں کی شناخت فیصل جٹ عرف سلیمان شاہ، حبیب طاہر عرف جبران اور حمزہ افغانی کے طور پر کی گئی تھی، جبکہ جون 2025 میں این آئی اے نے خود میڈیا میں گردش کرنے والی ابتدائی شناختوں کے بارے میں محتاط رہنے کی وضاحت کی تھی۔ اس لیے ہاشم موسیٰ کو پہلگام حملے کا براہِ راست حملہ آور قرار دینا دستیاب سرکاری ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری رکھا گیا۔ بھارتی فوج کی چنار کور نے بھی کارروائی کو مشترکہ آپریشن قرار دیتے ہوئے بتایا کہ تلاشی کے دوران ہلاک دہشتگرد کی لاش کے ساتھ جنگی سامان برآمد ہوا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C