30/September/2026

یمن : تعز اور لحج کے محاذوں پر شدید لڑائی، 100 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعات

👁️ 47 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن : تعز اور لحج کے محاذوں پر شدید لڑائی، 100 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعات

یمن : تعز اور لحج کے محاذوں پر شدید لڑائی، 100 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعات

صنعا(ڈیلی اردو) یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان گزشتہ دو روز سے جاری شدید جھڑپوں اور فضائی حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ لڑائی کا مرکز تعز اور لحج کے درمیان واقع پہاڑی علاقے اور باب المندب کے قریب محاذ بنے ہوئے ہیں۔

میدانی ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں نے تعز کے قریب الأغبرة کے محاذ پر حکومتی فورسز کی متعدد پوزیشنز پر حملے کیے، جبکہ بعض مقامات پر پیش قدمی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب حکومتی فورسز نے اہم پہاڑی پوزیشنز واپس حاصل کرنے کے لیے جوابی کارروائیاں کیں۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے تعز کو مختلف سمتوں سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس مقصد کے لیے الأحکوم، الأثاور، العلقمہ، الأغبرة، راسن، جرداد اور العجرام سمیت متعدد پہاڑی محاذوں پر حملے کیے گئے۔ ان علاقوں کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہاں سے تعز کے مختلف علاقوں اور لحج کی جانب جانے والے راستوں پر اثرانداز ہوا جاسکتا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق لڑائی کے دوران لحج کے خور عمیرہ کے علاقے میں حکومتی فورسز کو میزائل حملے کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں 8 اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم مختلف محاذوں پر ہونے والی مجموعی ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

عسکری امور کے ماہر جمیل المعمری کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی لڑائی کی شدت ان محاذوں پر ماضی کی جھڑپوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق پہاڑی علاقوں پر کنٹرول، فوجی دستوں کے درمیان رابطے اور رسد کے راستوں کا تحفظ موجودہ لڑائی میں فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔

حوثی پوزیشنز پر فضائی حملے

میدانی صورتحال کے مطابق حکومتی فورسز کی جانب سے حوثی باغیوں کے اسلحہ ڈپو، کمانڈ مراکز، آپریشن رومز، اہم فوجی پوزیشنز اور رسد پہنچانے والے راستوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد حوثی باغیوں کی جنگی صلاحیت اور محاذوں تک کمک پہنچانے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں فریقین کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آسکتے ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی مکمل تصدیق مشکل ہے۔

تعز کے راستے پر دباؤ بڑھ گیا

جمیل المعمری کے مطابق حوثی باغیوں کی حکمت عملی میں تعز کے گرد دباؤ بڑھانا اور لحج سے شہر التربہ تک جانے والے اہم راستے کو متاثر کرنا شامل ہے۔ بعض مقامات پر حملہ آور فورسز نے راستے تک رسائی حاصل کرکے اسے عارضی طور پر متاثر کیا، تاہم حکومتی فورسز نے بعض پوزیشنز دوبارہ حاصل کرلیں۔

ان کے مطابق الأغبرة کا محاذ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ رأس العارہ، الشمايتين، الظریفة، راسن اور بنی عمر سمیت متعدد پہاڑی راستوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس علاقے میں کنٹرول کی تبدیلی سے باب المندب اور لحج کی سمت دیگر محاذوں پر بھی فوجی دباؤ متاثر ہوسکتا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں قبائلی جنگجو بھی حکومتی فورسز کے ساتھ شامل ہیں۔ بعض علاقوں میں مقامی قبائل نے پہاڑی پوزیشنز کا دفاع کیا، جبکہ حوثی باغیوں کی جانب سے مختلف محاذوں پر اضافی جنگجو بھیجنے کی اطلاعات ہیں۔

ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ

میدانی ذرائع نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد بتائی ہے، تاہم عسکری تجزیہ کار جمیل المعمری نے دعویٰ کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں اور وادیوں میں بڑی تعداد میں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کے باعث اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

انہوں نے لڑائی کے علاقوں میں موجود لاشوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے بین الاقوامی ریڈ کراس سمیت انسانی امدادی اداروں سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جاری لڑائی کے باعث لاشوں کی منتقلی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

باب المندب کے قریب جاری یہ لڑائی یمن کی طویل خانہ جنگی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے، کیونکہ اس خطے کے پہاڑی راستے تعز، لحج اور بحیرہ احمر کی سمت جانے والے اہم زمینی رابطوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم موجودہ کارروائیوں کے نتیجے میں محاذوں کی مجموعی صورتحال میں مستقل تبدیلی کے بارے میں حتمی اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C